.

’باب العامود‘ زندگی اور موت کے درمیان حد فاصل!

فلسطینیوں کی توہین آمیز طریقے سے شناخت پریڈ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین میں حالیہ چند مہینوں کے دوران جاری تحریک انتفاضہ کے دوران جہاں فلسطینی بچوں اور کم عمر نوجوانوں کےاسرائیلی فوجیوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے وہیں صہیونی فورسز کے بھی فلسطینیوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کے حربوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں فلسطینی آبادیوں اور یہودی کالونیوں کو ملانے والے مقامات[حد بندیوں] میں آئے روز مظاہرے، کشیدگی اور فلسطینیوں پر وحشیانہ تشدد کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے قریب باب العامود کچھ ہفتوں سے فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس جگہ فلسطینی بچوں اور نوجوانوں کی جانب سے یہودی فورسز پر متعدد حملے کیے گئے جس کے جواب میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے مظاہر میں اضافہ ہوا اور کئی فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ یوں ’باب العامود‘ زندگی اور موت کے درمیان ’حد فاصل‘ بن چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نامہ نگار زیاد الحلبی اور کئی دوسرے صحافی کل بدھ کو باب العامود کے مقام پر گئے جہاں انہوں نے بہ چشم سر وہاں کا منظر دیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ باب العامود میں فوجی اور پولیس اہلکاروں کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں۔ اس طرح یہ جگہ فوجی چھاؤنی کا مںظر پیش کرتی ہے۔ وہاں سے گذرنے والے ہر فلسطینی کو شک وشبے کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسے توہین آمیز تفتیش اور چیکنگ کے کئی مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اہالیان بیت المقدس کا باب العامود سے گذرنا ہی جرم ہے۔ وہاں سے آنے جانے والے فلسطینی بچوں کو گھنٹوں روک کر انہیں شناخت پریڈ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ویسے تو دن بھر دسیوں فلسطینیوں کو اس ذلت آمیز چیکنگ سے گذرنا پڑا مگر دو بچوں کی تلاشی اور چیکنگ کی تصاویر بنانے کی بھی اجازت دی گئی۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ ظالمانہ اور ذلت آمیز تفتیش سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ کوئی شخص صحافیوں کے قریب جا کر بیٹھ جائے۔ محمد نامی نوجوان کا کہنا تھا کہ جب ایک ساتھ کئی فلسطینی وہاں سے گذرتے ہیں تو انہیں تیزی کے ساتھ سب کو بھگا دیا جاتا ہے اور جب کوئی اکیلا شخص وہاں سے گذرنے لگے تو اس کی توہین آمیز طریقے سے تلاشی لی جاتی ہے۔

غیرمحفوظ قلعہ

باب العامود بیت المقدس کا مرکزی مقام ہے جہاں بھاری تعداد میں ہمہ وقت اسرائیلی پولیس، بارڈر فورس، خفیہ اداروں کے اہلکار چھتوں، اونچی دیواروں پو پوزیشنیں سنھبالے، گشت کرتے، وہاں سے گذرنے والے طلباء کی تلاشی لیتے اور سخت ترین سیکیورٹی قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جگہ جگہ نصب خفیہ کیمرے، کنٹرول ٹاور اور فوج کے کنٹرول روم بھی فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے لگائے گئے ہیں مگر اس کے باوجود باب العامود ایک غیر محفوظ قلعہ ثابت ہواہے کیونکہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ’باب العامود‘ میں فلسطینیوں کی جانب سے یہودی فوجیوں پر چاقو کے ذریعے 10 حملے ہوئے جب کہ ایک بار فائرنگ کے ذریعے بھی صہیونی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

باب العامود کے مقام پر فلسطینیوں کےانفرادی مزاحمتی حملوں اور اسرائیلی فوج کی جوابی کارروائیوں کے بعض مناظر کو العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کی اسکرینوں پر بھی دکھایا جا چکا ہے۔ ان دنوں باب العامود مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپیں روز کا معمول ہیں۔ حال ہی میں باب العامود کے مقام پر اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی کو چاقو کےحملے کے شبے میں گولیوں سے چھلنی کر دیا۔

باب العامود کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دروازہ خلافت عثمانیہ کے دور میں بنایا گیا۔ شمالی بیت المقدس میں شہر میں داخلے کا یہ اہم ترین راستہ ہے۔ اس کے نام میں نسبت رومن دور کے ’’عامود نصر‘‘ بادشاہ کی جانب کی جاتی ہے اور اسی نسبت سے اس کا نام ’’باب العامود‘‘ رکھا گیا۔ بیت المقدس کے مرکز کے انتہائی قریب واقع باب العامود کو ’’باب دمشق‘‘ اور ’’باب نابلس‘‘ بھی کہا جاتا ہےمگر یہ نام یہودیوں کی جانب سے دیے گئے ہیں۔