.

بحرين، يمن اور عراق میں جنگجوؤں کو حزب اللہ کی تربیت کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت کی جانب سے حوثی ملیشیاؤں کی حزب اللہ کے ہاتھوں تربیت کے ثبوت پیش کیے جانے کے بعد... یمن میں حزب اللہ کی مداخلت کی مذمت میں سامنے آنے والے لبنانی ردعمل میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسی سلسلے میں لبنان کے مستعفی ہونے والے وزیر انصاف اشرف ریفی نے "الحدث" نیوز چینل سے ٹیلیفونک رابطے میں بتایا کہ حزب اللہ نے بحرین، یمن، عراق اور شام میں جنجگوؤں کی ایک بڑی تعداد کو تربیت دی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تنظیم "شام، عراق اور یمن میں ہمارے لوگوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کے علاوہ بعض غیرملکوں میں بھی دہشت گرد اور عسکری کارروائیوں میں شریک ہوئی"۔

سابق وزیر انصاف نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی دوست یا برادر ملک پر حملے کے لیے لبنان کو پلیٹ فارم بنانا کسی طور درست نہیں۔

دوسری جانب سیاسی جماعت "لبنانی فورسز" سے (جس کی قیادت سمیر جعجع کے ہاتھ میں) تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ انطوران زہرا کا کہنا ہے کہ انہیں بحران کا شکار بعض ممالک میں حزب اللہ کی مداخلت پر قطعا کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ الحدث نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ " حزب اللہ تہران حکومت کے ہاتھوں میں ایک ایرانی آلہ کار ہے جس کو وہ شام، یمن، بحرین، کویت اور یہاں تک کے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں جہاں تک ممکن ہو اپنے مفاد میں حرکت میں لاتا ہے"۔ انطوان کا مزید کہنا تھا کہ مشکل اس بات کی ہے کہ یہ تنظیم خود کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے اور حکومت میں شامل بعض فریق اس کو روکے جانے پر جو کہ یقینا روکا جانا چاہیے.. اس پر عمل درامد نہیں کررہے۔