.

ایرانی انتخاب سے قبل پولیس، انٹیلی جنس کی سائٹس ہیک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں آج جمعہ کو پارلیمانی انتخابات سے چند گھنٹے قبل اپوزیشن نے ایرانی وزارت برائے انٹیلی جنس اور پولیس کی ویب سائیٹس ہیک کر کے بعد ان پر اصلاح پسندوں کی حمایت میں بیانات بھی پوسٹ کر دے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ویب سائیٹس کی ہیکنگ کا اقدام مبینہ طور پر اپوزیشن کی سبز انقلاب تحریک کی جانب سے کیا گیا ہے کیونکہ ویب سائیٹس ہیک کیے جانے کے بعد ان پر ’’سائبر صبا گروپ‘‘ کا نام نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’فتح و کامیابی تک صبرو استقلال‘‘ کا نعرہ بھی درج ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اپوزیشن کے کارکنوں نے ویب سائیٹس اصلاح پسند رہ نماؤں میر حسین موسوی،ان کی اہلیہ زھرا رھنورد اورمہدی کروبی کی جبری نظربندی کے خلاف احتجاج ہے۔ ہیکرز نے ویب سائیٹس پراپوزیشن رہ نماؤں مہدی کروبی ، میر حسین موسوی اور دیگر کی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں۔

ہیکرز کے گروپ کی جانب سے سامنے آنے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کو خبردار کرتے ہیں کہ اگرانہوں نے 26 فروری بہ روز جمعہ کو ہونے والے مجلس شوریٰ کے انتخابات میں سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کی طرح دھانے کی کوشش کی تو وہ اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انہوں نے دونوں ویب سائیٹس پر موجود اہم مواد اور حساس معلومات حاصل کر لی ہیں جنہیں مستقبل میں کسی بھی اہم ضرورت کے موقع پر استعمال کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار سست کردی ہے تاکہ بیرون ملک موجود شہری ویب سائیٹس تک آسانی کے ساتھ رسائی حاصل نہ کر سکیں۔ انٹرنیٹ کی رفتار کم کرنے کا مقصد بیرون ملک انتخابی عمل کے حوالے سے معلومات کی فراہمی میں تعطل پیدا کرنا ہے۔