.

فلسطینی صحافی نے بھوک ہڑتال ختم کردی

اسرائیل کا القیق کی انتظامی حراست ختم کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی جیل میں اپنی بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی صحافی محمد اسامہ القیق نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے فلسطینی صحافی محمد القیق کو دی گئی چھ ماہ کی انتظامی حراست کی سزا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد القیق کی جانب سے بھی بھوک ہڑتال کے ختم ہونے کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد القیق نے اپنے وکلاء کے مشورے کے بعد بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔ قبل ازیں اسرائیلی انتظامیہ نے القیق کو دی گئی چھ ماہ کی انتظامی حراست جو کہ 21 مئی 2016ء کو پوری ہو رہی ہے کے فوری بعد رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ محمد القیق کو چند ہفتے پیشتر بھوک ہڑتال کے نتیجے میں حالت تشویشناک ہونے کے بعد نفحہ جیل سے العفولہ اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

بھوک ہڑتالی صحافی کی اہلیہ فیحاء شلش نے رام اللہ میں نیوز کانفرنس کے دوران اپنے شوہر کی بھوک ہڑتال کے ختم ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کا جمعہ اس اعتبار سے مبارک دن ہے جس میں صحافی محمد القیق نے اپنے مطالبات منواتے ہوئے بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد القیق کی بھوک ہڑتال کے ختم کرنے کا اعلان ان کی فتح ہے۔ شلش نے کہا کہ اہل خانہ جلد ہی العفولہ اسپتال میں القیق سے ملنے پہنچ رہے ہیں۔

خیال رہےکہ محمد القیق نے 25 نومبر کو اس وقت بھوک ہڑتال شروع کی تھی جب صہیونی جیل میں وحشیانہ تشدد کے بعد اسے چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں ڈالنے کا حکم دیا گیا تھا۔

تینتیس سالہ محمد اسامہ القیق سعودی عرب کے المجد ٹی وی کے نامہ نگار ہیں۔ انہیں اکیس نومبر 2015ء کو فلسطین کے علاقے غزہ اردن کے جنوبی شہر الخلیل سے حراست میں لیا گیا تھا۔