.

یو این میں 'حزب اللہ' کے خلاف یمنی عرضداشت پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب سیفر خالد الیمانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت حزب اللہ ملیشیا کے خلاف عالمی ادارے میں باقاعدہ درخواست پیش کرے گی جس میں تنظیم کا نام دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنے پر زور دیا جائے گا۔ خالد الیمانی کا کہنا تھا کہ یمن حکومت کے پاس ایسے دستاویزی ثبوت موجود ہیں جن سے حزب اللہ کے فوجیوں اور ماہرین کی یمن میں موجودگی ثابت ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے بدھ کے روز یمنی حکومت نے ایک سرکاری بیان میں الزام عاید کیا تھا کہ 'حزب اللہ' یمن کی آئینی حکومت اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں براہ راست ملوث ہے۔ بیان میں بتایا گیا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے حزب اللہ کی یمن میں مختلف ملیشیاؤں کی لڑائی میں ملوث ہونے کے ٹھوس اشارے ملتے ہیں۔

بیان میں مزید انکشاف کیا تھا کہ یمن کی لڑائی میں حزب اللہ باقاعدہ شریک ہے۔ اس کے اہلکار باغی ملیشیاؤں کو تربیت فراہم کر رہے ہیں اور سعودی-یمن سرحدی علاقوں میں بھی حزب اللہ کے جنگجوؤں بکثرت دیکھے جاتے ہیں۔

نیز یمنی فوج کو حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں سے ایسی طویل ریکارڈنگز ملی ہیں جس میں لبنانی حزب اللہ کے ٹرینرز حوثیوں کو تربیت دیتے پائے گئے ہیں۔ حزب اللہ کے 'مربی' کی تربیت کا مرکزی نقطہ سعودی عرب کے سرحدی علاقوں پر اندھا دھند گولا باری کر کے اہالیاں کو ایذا دینا تھا تاکہ وہ علاقہ چھوڑ دیں اور یمنی باغی مملکت کی بین الاقوامی سرحد عبور کر لیں۔