.

ایرانی انتخابات: اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں کے ہاتھ کیا آیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جمعہ کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق اصلاح پسندوں نے 83 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور قدامت پسند بنیاد پرستوں کے حصے میں 78 نشستیں آئیں جب کہ سکیں جب کہ 60 نشستوں پر آزاد امیدواروں نے قبضہ جما لیا۔

اس طرح پارلیمنٹ کی 290 مجموعی نشستوں میں سے 226 نشستوں کا فیصلہ پہلے مرحلے میں ہوگیا جب کہ بقیہ 64 نشستوں کے لیے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ آئندہ دو ماہ کے اندر ہونے والے اس مرحلے میں 128 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔

ایرانی ایجنسی "اسنا" کے مطابق.. اصلاح پسند رہ نما محمد رضا عارف نے تہران کے مجموعی ووٹوں میں سے 16 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ دارالحکومت کے لیے مخصوص 30 نشستوں پر اصلاح پسندوں کی ہی جیت ہوئی ہے جو قدامت پسندوں کے لیے ایک کاری ضرب ہے۔

ایسے وقت میں جب کہ اصلاح پسند قوتیں اپنے قریب آزاد امیدواروں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے پارلیمنٹ کی لگامیں سنبھالنے پر مصر ہیں.. ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے سربراہ اور بروجرد شہر سے کامیاب رکن پارلیمنٹ علاء الدین بروجردی نے پارلیمنٹ کے موجودہ اسپیکر علی لاریجانی کو ان کے منصب پر برقرار رکھنے کے لیے شدت پسندوں اور اصلاح پسندوں کے درمیان مفاہمت کا انکشاف کیا ہے۔

لاریجانی قدامت پسند امیدوار کی حیثیت سے 1 لاکھ 62 ہزار ووٹ حاصل کر کے دوسری مرتبہ قم شہر سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے بنیاد پرست گروپ کی جانب سے اپنی نامزدگی کو مسترد کردیا تھا۔

برجردی نے ایرانی نیوز ایجنسی "مہر" کو بتایا کہ "لاریجانی کو دوسری مرتبہ پارلیمنٹ کا اسپیکر بنانے کے لیے شرائط.. بنیاد پرستوں، اصلاح پسندوں اور ان کے حلیفوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم کی روشنی میں موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "آئندہ پارلیمنٹ قدامت پسندوں اور اصلاح پسندوں کے درمیان برابر منقسم ہو گی"۔

جنوری میں اخباری رپورٹوں نے ایران میں مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہاشمی رفسنجانی اور اصلاح پسندوں کی جانب سے پارلیمنٹ کے موجودہ اسپیکر علی لاریجانی کو کی جانے والی ایک پیش کش کا انکشاف کیا تھا.. جس میں کہا گیا تھا کہ بنیاد پرستوں کی جانب سے امیدوار نہ بننے کی شرط پر لاریجانی اپنے منصب پر باقی رہ سکتے ہیں۔

اصلاح پسندوں کی نیوز ایجنسی "اِلنا" نے خصوصی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ "لاریجانی اس پیش کش پر آمادہ ہو گئے بالخصوص شدت پسند ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد... یہ تنقید لاریجانی کی جانب سے صدر حسن روحانی کو سپورٹ کرنے اور گزشتہ جولائی میں مغربی طاقتوں کے ساتھ طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کو پاس کرانے کی وجہ سے کی گئی تھی"۔

ایرانی امور کے متعدد محققین کے نزدیک ایران میں اصلاح پسندوں کا منصوبہ سیاسی زندگی کی طرف واپسی کی کوششوں تک محدود رہا جس سے وہ 7 سالوں سے دور رھے۔ یہ منصوبہ جمہوری تبدیلی، سیاسی اور سماجی توسع، اقتصادی اصلاحات اور ان دیگر نعروں سے خالی نظر آتا ہے جو وہ 1997 سے 2005 تک صدر خاتمی کے دور میں بلند کرتے تھے۔

اگرچہ پارلیمانی انتخابات میں اصلاح پسندوں کی جیت کے بعد انہیں برتری حاصل ہے.. اور اسی طرح مجلس خبرگان میں رفسنجانی اور روحانی کو اکثریت سے کامیابی ملی ہے.. تاہم

ایرانی امور کے مبصرین کے خیال میں اعتدال پسند روحانی کا منصوبہ وہ عملی طور پر اصلاح پسندوں کے منصوبے کا متبادل بن گیا ہے۔

ایرانی صدر نظام کو درپیش اندرونی، علاقائی اور بین الاقوامی بحرانوں سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی دوران وہ خطے میں ایرانی توسیع کے نقشے کی بھی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں.. اسی واسطے انہوں نے مغرب کے ساتھ نیوکلیئر پروگرام سے پوری طرح دست بردار ہونے کی ڈیل اور عالمی برادری سے آزادی رائے اور انسانی حقوق کے حوالے سے اندرونی معاملے میں اصلاحات کے وعدے بھی کیے ہیں۔