.

آپریشن نہ کیا جاتا تو یمن ایران کا حصہ ہوتا: یمنی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ 85٪ یمن کو حوثی باغیوں اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں سے آزاد کرالیا گیا ہے۔

سعودی روزنامنے "عكاظ" کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے باور کرایا کہ اگر سعودی عرب کے زیرقیادت عرب اتحاد کا فوجی آپریشن "عزم کی آندھی" نہ شروع ہوتا تو یمن ایران کا حصہ بن چکا ہوتا ... اور یہ سب یمنی معیشت کے لیے ایرانی امداد کے مقابل عمل میں آتا۔

یمنی صدر نے حوثیوں کے لیے ایرانی اسلحہ لے کر جانے والے سمندری جہازوں کے پکڑے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران پورے جزیرہ عرب کو نگلنے کی کوششیں کرہا ہے۔

انہوں نے اس موبائل فون کے قصے کا بھی ذکر کیا جو ان کا حوثی مشیر اپنے دفتر میں بھول گیا تھا اور اس کے ذریعے حکومت کو انقلاب کے منصوبے کی تفصیلات کا علم ہوا۔

اس دوران منصور ہادی نے یقین سے کہا کہ معزول صدر علی عبداللہ صالح کا سعودی عرب سے تعلقات درحقیقت سیاسی بلیک میلنگ کا تعلق تھا۔ انہوں نے اربوں ڈالروں کی منی لانڈرنگ میں صدر صالح کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا... اور انہیں حوثیوں اور ان کے حلیفوں کے ساتھ مل کر صنعاء کے سقوط کا بنیادی سبب قرار دیا۔

یمنی صدر نے خود کو ہلاک کیے جانے کے حوالے سے بے خوفی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں خلیجی ممالک کے تمہیدی منصوبے کو غائب کرانے کے لیے پانچ مرتبہ قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔