.

کیا رات کو سو پاتے ہیں؟ جرمن صحافی کا بشار سے سوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں ایک جرمن صحافی کی جانب سے بشار الاسد سے لیے جانے والے انٹرویو کو شامی صدر کے لیے "سخت ترین انٹرویو" شمار کیا جارہا ہے۔ انٹرویو کے دوران جرمن صحافی نے بشار کو آگاہ کیا کہ انہوں نے وسطی شام میں حمص صوبے کا دورہ کیا اور وہاں "ایسے مناظر دیکھے جن کا یقین نہیں کیا جاسکتا، ایسی صورت حال گویا کہ یہ دنیا ختم ہوجانے کی منظر کشی ہے"۔

حمص میں نظر آنے والی صورت حال کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے جرمن صحافی نے پوچھا "جناب صدر میرا ایک ذاتی سوال ہے کہ : کیا آپ رات کو سو پاتے ہیں؟... اس پر بشار الاسد نے جواب دیا کہ "میں سوؤں یا نہیں سوؤں یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی"۔ انہوں نے باور کرایا کہ "ہمارا نہ سونا اس لیے نہیں کہ ہم سو نہیں سکتے بلکہ اس لیے کہ ہم کام کرنا چاہتے ہیں"۔

جرمنی کے ARD ٹیلی وژن نے شامی حکومت کے سربراہ کے ساتھ انٹرویو کیا جس کو "آندھی" کا نام دیا جارہا ہے۔ اس میں پوچھے جانے والے سوالات سے مغربی دنیا میں بشار الاسد کی تصویر کی عکاسی ہوتی ہے اور یہ کہ مغربی میڈیا ان کو کس طرح دیکھتا ہے بالخصوص شامی ریاست کی "سیادت" جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جرمن صحافی نے کہا کہ یہ "نامکمل" ہے۔ اس انٹرویو کو شامی سرکاری ایجنسی "سانا" نے رواں ماہ کی پہلی تاریخ کو نشر کیا۔

ایک موقع پر جرمن صحافی نے بشار سے براہ راست سوال کیا کہ "کیا آپ سبک دوش ہونے کے لیے تیار ہیں؟".. بشار نے اس کی نفی کرتے ہوئے واضح کیا کہ "شامیوں کے ارادے کے بغیر" ایسا نہیں ہوگا۔ صحافی نے پھر سوال کیا کہ "اگر صورت حال یہ ہو کہ شامی عوام آپ سے سبک دوشی چاہتے ہوں تو پھر آپ تیار ہوں گے؟".. اس پر بشار نے کہا کہ "یقینا کیوں نہیں.. جب شامی عوام یہ چاہیں گے تو مجھ پر لازم ہے کہ میں براہ راست ایسا کر گزروں"۔

یہ انٹرویو بشار الاسد کے ساتھ ہونے والی اکثر گفتگوؤں سے مختلف رہا.. جس میں ان پر اور ان کی فوج پر ملک کی تباہی کا "الزام" عاید کیا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ "کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ شام ایک صاحب سیادت ریاست ہے؟ یا پھر آپ کی پالیسی کا خاکہ درحقیقت تہران یا کرملن میں تیار ہوتا ہے؟"... اس پر بشار نے اپنے ملک کی سیادت ناقص ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ "سیادت ایک متعلقہ اصطلاح ہے.. اسی واسطے ہم مکمل سیادت کی بات نہیں کرسکتے"۔ تاہم بشار الاسد نے سوال میں پوچھے گئے تہران اور روس کے کردار کو نظرانداز کردیا۔

انٹرویو کے زیادہ تر حصے میں بشار الاسد کو سخت "تنقید" کا سامنا کرنا پڑا۔ سوالات میں توجہ اکثر امور میں شامی حکومت کے دعوؤں کی ناکامی پر مرکوز رکھی گئی.. ان میں حکومت کا شام میں "دہشت گردوں" سے لڑنے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ جرمن صحافی نے چبھتا ہوا سوال کیا کہ " یہ فیصلہ کون کرے گا کہ آپ لوگ دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں یا پھر مسلح اپوزیشن کے خلاف؟" ایک اور سوال میں پوچھا گیا کہ " آپ لوگ ہمیشہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ آپ صرف دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں؟"

ان سوالوں کا جواب بشار الاسد نے معمول کی طرح اسی سیاق کے تحت دیا جس میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو کوئی بھی حکومت کے خلاف لڑے گا وہ "دہشت گرد" ہے اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے ہتھیار ریاست کے "حوالے" کردے جس کے بارے میں خود انہوں نے اعتراف کیا کہ اس کی سیادت نامکمل ہے۔

اپنی گفتگو میں بشار نے "آئین" کا کثرت سے ذکر کیا جس پر جرمن صحافی نے پوچھ ہی لیا کہ

" کیا آئین یا شام کا استحکام.. لاکھوں لوگوں کی زندگی سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں؟"

جرمن صحافی نے بشار سے کہا کہ ان کی فوج اور روسی فضائیہ "ضمنی نقصانات کے نہیں بلکہ بطور حکمت عملی اسکولوں اور ہسپتالوں پر بمباری" کے ذمہ دار ہیں۔ بشار نے ہمیشہ کی طرح اپنی اور روس کی ذمہ داری تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے جواب دیا کہ "ایسا کرنے سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا ؟"۔

انٹرویو کے ذریعے یورپ میں شامی صدر کی تصویر سامنے آگئی اور یہ کہ مغرب انہیں اس حوالے سے کس طرح دیکھتا ہے کہ وہ اپنے ملک کو تباہ کرنے والے اور اس کی سیادت اور بالادستی کے خاتمے کا سبب ہیں.. ان کی پالیسی کے نتیجے میں ایران اور روس کے ساتھ ساتھ عراق اور لبنان کی ملیشیاؤں کے ذریعے غیرملکی مداخلت آسان ہوگئی۔

شام کی تباہی کے حوالے سے جرمن صحافی کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری کا حصہ شامی فوج پر بھی عائد ہوتا ہے۔ جناب صدر میرا ایک ذاتی سوال ہے کہ " کیا آپ رات کو سو پاتے ہیں ؟"۔