.

عراقی کردستان.. داعش اور مالی بحرانوں کے بھنور میں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ داعش تنظیم کے خلاف جنگ نے عراقی کردستان کی حکومت کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا ہے جس کے نتیجے میں اقتصادی طور پر اس کے سقوط کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

"فارن پالیسی" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کردستان کی حکومت جو موصل شہر کا کنٹرول واپس لینے کی فوجی مہم میں بنیادی کردار ادا کررہی ہے اس وقت مسلسل بحرانوں سے دوچار ہے جن کے نتیجے میں اس کے فنڈز ختم ہوچکے ہیں۔ ان میں پہلا بحران 18 ماہ سے زائد عرصے سے داعش کے خلاف جاری جنگ ہے۔ دوسرا بحران بغداد میں مرکزی حکومت کے ساتھ اختلاف ہے جس کی وجہ سے کردستان عراق کے قومی بجٹ میں اپنے حصے سے محروم کردیا گیا ہے۔ تیسرا بحران بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد سے آبادی کی مجموعی تعداد میں 30 فی صد اضافے کے نتیجے میں صورت حال کا سنگین ہوجانا ہے۔ چوتھا بڑا بحران علاقے کی اپنی توانائی کی برآمدات اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آنا ہے۔

کردستان کی حکومت 70 فی صد ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی نہیں کرسکی جس کے نتیجے میں بیشمرگہ کے بعض عناصر بلیک مارکیٹ میں بندوقوں اور پستولوں کی فروخت پر مجبور ہوگئے۔

اسی طرح رپورٹ میں واشنگٹن حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کردستان اور بغداد حکومتوں کو سپورٹ کرے تاکہ وہ مالی بحران کی شدت کم کرنے کے لیے کسی قسم کے مشترکہ تعاون کی صورت ممکن بنا سکیں۔ بالخصوص جب کہ داعش تنظیم کے خلاف جنگ میں اوباما کی حکمت عملی بنیادی طور پر بیشمرگہ کے 1.5 لاکھ جنگجوؤں پر انحصار کررہی ہے۔ یہ جنگجو امریکی زمینی افواج کی ضرورت کے بغیر ہی شدت پسندوں کو شکست دے سکتے ہیں۔