.

عراق : مقتدی الصدر کا حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں الصدری تحریک کے سربراہ مقتدی الصدر نے کہا ہے کہ بغداد میں جمعہ کے روز ہونے والے مظاہرے اقتدار سے ایک جماعت کو ہٹا کر دوسری جماعت کو لانے کے لیے نہیں تھے بلکہ یہ صرف عراق کو ان لوگوں کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے تھے جو اس کے عوام کے مقدر کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ مقتدی الصدر نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ خود کو سونپی گئی تمام ہی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے لہذا اس کے تمام ارکان کو مستعفی ہو کر دوسروں کو موقع دینا چاہیے۔

انہوں نے سیاسی بالخصوص پارلیمانی فریقوں پر زور دیا کہ وہ حکومت اور اس کی بدعنوانی کے خاتمے اور متبادل حکومت کی تشکیل کے لیے بات چیت کریں۔

مقتدی الصدر کی جانب سے اپنے پیروکاروں کو مظاہروں کی کال کے بعد دارالحکومت بغداد میں سیکورٹی الرٹ کردی گئی۔ مظاہروں میں ملک میں جامع اصلاحات اور حکومت کو ان اصلاحات کے نفاذ کے لیے دی گئی 45 روز کی ڈیڈلائن ختم ہونے پر گرین زون پر دھاوا بولنے اور (جماعتی کوٹے سے دور) ٹکنوکریٹس پر مشتمل حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

مقتدی الصدر نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ مظاہروں میں نظم وضبط برقرار رکھیں اور کسی بھی قسم کے تصادم سے خود کو بچائیں۔