.

رہائشی علاقوں میں بارودی سرنگیں، حوثیوں کا نیا جرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت کے خلاف سرگرم حوثی ملیشیا اور سابق معزول صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار جنگجوؤں نے جنگ سے تباہ حال ملک کے شہروں، شاہراوں اور متعدد گورنریوں کے دیہاتوں میں جگہ جگہ بارودی سرنگیں بچھا کر ہنستے بستے علاقوں کو جہنم زار بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے اس انکشاف کو مبصرین باغیوں کے' جنگی جرم' سے تعبیر کر ہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق باغیوں کے قبضے سے چھڑائے جانے والے علاقوں سے بارودی سرنگوں اور آئی ای ڈیز کی شکل میں کئی ٹن مواد ملا ہے۔

یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مانیٹرنگ کرنے والے الائنس نے بتایا ہے کہ باغی ملیشیاؤں کی بچھائی گئی سرنگوں کی زد میں آ کر سیکڑوں فوجی اور عام شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

عدن، ابین، لحج، الضالع اور مارب گورنریوں میں باغیوں ملیشیاؤں نے اینٹی پرسنل اور بکتر بند شکن بارودی سرنگیں ہزاروں کی تعداد میں بچھائیں۔ اس مقصد کے لئے آباد اور مضافاتی علاقے کو بھی نہیں بخشا گیا۔ یمن کی باغی ملیشیا زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کے لئے اینٹی ٹینک بارودی سرنگوں کی جگہ اینٹی پرسنل مائز بچھا رہے ہیں۔

اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن کی سرکاری فوج نے پانچ گورنریوں سے تقریبا پانچ ہزار لینڈ مائنز کو ناکارہ بنایا ہے۔ تعز، البیضاء، مارب اور شبوہ کے علاقے سے بھی بارودی سرنگیں بچھانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انخلاء سے پہلے باغی ملیشیا کے جنگجو پورے علاقے میں تباہ کن مائز کا پانی کی طرح چھڑکاؤ کرتے ہیں۔

بغیر نقشوں کے مائنز کی تنصیب

اس ساری صورتحال میں جو امر باعث تشویش ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے علی الرغم باغی ملیشیا یمن کے طول وعرض میں بارودی سرنگیں بغیر کسی نقشے کے بچھا رہی ہیں جس کی وجہ سے مائنز ناکارہ بنانے والے عملے کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں ۔

بین الاقوامی اور ریجنل تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ان مائنز کے نقشے فراہم کریں تاکہ انہیں ناکارہ بنانے کے کام میں سہولت ہو سکے۔

انسانی حقوق کی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے کہا ہے کہ حوثی نہتے شہروں کو قتل کر رہے ہیں اور بارودی سرنگیں انہیں مزید تباہی سے دوچار کر رہی ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ باغی ملیشیا یمن میں کسی بھی صورت میں بارودی سرنگیں بچھانے کے عمل سے باز رہیں۔