.

قاسم سلیمانی بغداد میں کیا کر رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے گزشتہ ہفتہ عراقی دارلحکومت بغداد کا دورہ کیا۔

قاسم سلیمانی کا دورہ بغداد کئی مہینوں بعد کیا جانے والے غالبا پہلا غیر ملکی سفر ہے کیونکہ اس سے قبل ان کی شامی شہر حلب میں ایک فوجی کارروائی کے دوران شدید زخمی ہونے کی اطلاعات آتی رہی ہیں اور وہ طویل عرصے تک میڈیا کی چکا چوند سے دور رہے۔

جنرل قاسم سلیمانی نے بغداد میں کسی قسم کی سیکیورٹی یا فوجی ملاقاتیں نہیں کیں حالانکہ ماضی میں وہ ایسی ملاقاتیں کرتے رہے ہیں کیونکہ وہ عراق میں 'الحشد الشعبی' نامی مسلح جھتے کے براہ راست نگران ہیں۔ یہ گروپ عراقی حکومت کے مینڈیٹ سے باہر ہے اور ایران اسے عراق کے اندر لڑائی کے بعد شام میں بھی ایرانی جنگجوؤں اور حزب اللہ کے شانہ بشانہ لڑنے کو ارسال کرتا رہا ہے۔

اس دورے میں اطلاعات کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی نے عراق میں سیاسی ملاقاتیں زیادہ کیں۔ وہ مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد اور گروپوں سے ملتے رہے ہیں۔ ان میں بعض ایسی جماعتیں بھی شامل تھیں کہ جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کی پارلیمنٹ میں نمایاں نمائندگی تھی۔

ان ملاقاتوں میں طے پانے والے امور تاحال صیغہ راز میں ہیں، تاہم یقین یہی کیا جا رہا ہے کہ ان ملاقاتوں کا محور عراق کی داخلی سیاست اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم حیدر العبادی کے اصلاحی پروگرام پر ان کا عدم اعتماد رہا ہے۔