.

"سعودی عرب اور خلیج کی سلامتی سرخ لکیر ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت دفاع کے مشیر بریگیڈئر جنرل احمد عسیری نے ایک مرتبہ پھر اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ 'سعودی عرب اور خلیج کی سلامتی ہمارے لئے سرخ لکیر ہے۔' انہوں نے بتایا کہ 'شمال کی گرج' نامی فوجی مشقوں کے ذریعے اس میں شامل ملک اپنی عسکری صلاحیت کا تبادلہ اور ان کی تیاری کا جائزہ لے رہے ہیں۔

سعودی شہر حفر الباطن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 'شمال کی گرج' مشقوں میں مسلح جتھوں سے لڑائی کی پریکٹیس کی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران دوسرے ملکوں میں مداخلت کے لئے اپنی ملیشیاؤں کا استعمال کرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے حزب اللہ کو لبنان اور حوثیوں کو یمن میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ 20 عرب اور خلیجی ملک ان مشقوں میں شمولیت کے ذریعے اپنی اپنی فوجوں میں انتہائی درجے کی کوارڈی نیشن اور چوکسی کے لئے یہاں جمع ہیں۔ وہ ایسی مہارت حاصل کرنے میں کوشاں ہیں کہ جس کے ذریعے ضرورت پڑنے پر ان ملکوں کی فوجوں کے درمیان انتہائی تیزی سے عملی تعاون روبعمل لایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ 'شمال کی گرج' نامی فوجی مشقیں جمعرات کو اختتام پذیر ہوں گی۔

جنرل عسیری نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک اسلامی اتحاد تشکیل دینے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان مشقوں سے حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ شمالی گرج میں شامل ملکوں کی فوج کا انسداد دہشت گردی کے حوالے سے متحدہ نظریہ رواج پا سکے۔

علاقے کی تاریخ میں شمالی گرج فوجی مشقیں سب سے بڑی فوجی ایکسرسائز ہیں جس میں فوجی صلاحیت میں اضافے کے لئے جدید ترین لڑاکا طیاروں اور ٹینکوں سمیت دیگر اسلحہ استعمال کیا گیا۔