.

ایران کا اسدی فوج کی شکست خوردگی کا اعتراف

جنگ بندی شامی فوج کی دوبارہ تیاری کا موقع ہے: حسین عبداللھیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اپنے کٹھ پتلی شامی صدر بشارالاسد کی فوج کی باغیوں کے سامنے شکست کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ حالیہ جنگ بندی شامی فوج کے پاس تیاری کا بہترین موقع ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں ایرانی نائب وزیرخارجہ برائے عرب و افریقی امور حسین امیر عبداللھیان نے کہا کہ کئی سال کی جنگ کے نتیجے میں شامی فوج نہ صرف تھک چکی بلکہ اسے کئی محاذوں پر شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے، مگر حالیہ جنگ بندی فوج کا اپنی دفاعی تیاریوں کا ایک نیاموقع فراہم کر سکتی ہے۔ اس دوران شامی فوج اپنے ڈھانچے کو از سرنو ترتیب دے کر خود کو ماضی کی طرح منظم کر سکتی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’مہر‘‘ کے مطابق نائب وزیرخارجہ حسین عبداللھیان نے مجلس شوریٰ[پارلیمنٹ] کے سامنے شام میں جنگ بندی سے متعلق ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ اس رپورٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ کئی سال کی جنگ کے نتیجے میں اسدی فوج تھک ہار چکی ہے۔ موجودہ جنگ بندی فوج کے ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دینے کا بہترین موقع ہے۔

بعد ازاں پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی قومی سلامتی کمیٹی کےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حسین امیر عبداللھیان نے کہا کہ جنگ بندی شام کے تمام متحارب گروپوں کی حیثیت اور ان کے موقف کو واضح کر دے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جنگ بندی شامی فوج کے لیے خود کو منظم کرنے کا ایک بہترین موقع ہے جو کئی سال کی جنگ میں بری طرح تھک ہار چکی ہے۔

اس موقع پرایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ جنیوا میں مستقبل قریب میں شام کے تنازع پر ہونے والے مذاکرات میں شام کی عبوری کونسل کے ارکان کا فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ہر صورت میں بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانا چاہتا ہے جب کہ روس صدر اسد کو اقتدار پر قائم رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ ایران شامی قوم کی امنگوں کے مطابق حکومت کے قیام اور شام کی خود مختاری کا خواہاں ہے۔