.

بشارالاسد کی طرح یمنی باغیوں کی مدد بھی ضروری ہے: ایران

یمن میں تہران کے عدم مداخلت کا بھانڈہ پھوٹ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت بچانے کی طرز پر شام کی مادی اور معنوی امداد کی طرز پر یمن میں حکومت مخالف حوثی باغیوں کی مدد کا اشارہ دیا ہے اور کہا ہے کہ تہران یمن میں حوثیوں کی ہرممکن مدد جاری رکھے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی ڈپٹی آرمی چیف جنرل مسعود جزائری نے ایک بیان میں عندیہ دیا ہے کہ ان کا ملک یمن میں حوثی باغیوں کی معاونت کے لیے فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران یمنی باغیوں کی ایسے ہی مدد کرنا چاہتا ہے جیسا کہ وہ اب تک شام میں صدر بشارالاسد کی مدد کرتا آیا ہے۔

پاسداران انقلاب کی ترجمان نیوز ایجنسی’’تسنیم‘‘ سے گفتگو میں جب جنرل جزائری سے پوچھا گیا کہ آیا ان کا ملک شام میں صدر بشارالاسد کی فوجی معاونت کی طرز پریمنی باغیوں کی مدد کرے گا توان کا کہنا تھا کہ ’اسلامی جمہوریہ جس طرح ایران شامی قوم اور حکومت کی مدد کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ بالکل اسی طرح یمنی قوم کی ہرسطح پر مدد کو بھی ضروری خیال کرتا ہے‘‘۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ایک سال قبل یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن شروع کر کے ملک میں ایرانی مداخلت کی سازش ناکام بنا دی تھی مگر اس کے باوجود ایران باغیوں کی حمایت اور مدد کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

بعض مبصرین کے خیال میں ایرانی ڈپٹی آرمی چیف کا بیان یمنی باغیوں کی محض حوصلہ افزائی کے لیے ہے عملہ تہران یمنی باغیوں کی پوزیشن میں نہیں رہا ہے۔

ایرانی فوجی عہدیدارکی جانب سے یمنی باغیوں کی معاونت کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی ٹی وی نیٹ ورک’سی این این‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ آسٹریلوی نیول فورس نے ایک چھوٹا بحری جہاز پکڑا ہے جس پر پر2000 جنگی آلات اور خود کار رائفلیں اور 100 راکٹ لادے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ بحری جہاز ایران سے یمن میں باغیوں کی مدد کو ارسال کیا گیا تھا۔