.

سعودی عرب : موبائل کے کاروبار سے غیرملکیوں کی بے دخلی کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر محنت ڈاکٹر مفرج بن سعد الحقبانی نے مملکت میں موبائل کی فروخت اور مرمت کے پیشے کو سعودی مرد و خواتین شہریوں کے لیے مخصوص کردیا ہے۔

منگل کے روز جاری فیصلے کے متن کے مطابق مذکورہ پیشے سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف حلقوں کو یکم جمادی الثانی 1437 ھجری سے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ متعلقہ سہولت کاروں کو پابند کیا گیا ہے کہ تین ماہ کے اندر یکم رمضان سے موبائل کی فروخت اور مرمت کے پیشوں میں کم از کم 50 فی صد مقامی شہریوں کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے اور پھر یک ذوالحجہ سے یہ شرح پوری 100 فی صد تک پہنچا دی جائے۔

وزارت محنت نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد مذکورہ پیشے میں کام کرنے کے خواہش مند سعودی مرد اور خواتین کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے... اس لیے کہ ان سرگرمیوں کے ذریعے معقول آمدنی اور ملازمت کا استحکام فراہم ہوتا ہے... ساتھ ہی سیکورٹی، سماجی اور اقتصادی اہمیت کے سبب ان پیشوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

منتقلی کے اس مرحلے کو سپورٹ کرنے کے لیے وزارت محنت نے باور کرایا کہ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کے قومی ادارے نے اعلی درجے کے تربیتی پروگرام ڈین کرلیے ہیں جو صارفین کی خدمت اور موبائل کی مرمت کے لیے مخصوص ہیں۔ ٹیلی کمیونی کیشن اور آئی ٹی کے سیکٹر میں کام اور سرمایہ کاری کے خواہش مندرافراد آئندہ دنوں میں ان پروگراموں سے مستفید ہوسکیں گے۔