.

مذہبی تعلیم اور تربیتی کیمپ.. داعش کی نئی نسل کی تیاری

داعش میں 50 برطانوی بچے اور 800 جنجگو ہیں : برطانوی تھنک ٹینک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی پارلیمنٹ میں آج انسداد دہشت گردی سے متعلق خصوصی تھنک ٹینک کویلیئم کی جانب سے تیار کی گئی ایک رپورٹ زیربحث لائی گئی۔ رپورٹ میں داعش کی جانب سے اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں مقیم نئی نسل میں شدت پسند نظریات پھیلانے کے خطرے پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ میں داعش کی جانب سے مذہبی تعلیمات اور تربیتی عسکری کیمپوں کا انکشاف بھی کیا گیا ہے جن کا مقصد تنظیم کے چلن کو جاری رکھنے کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ خون ریز نئی نسل کی تیاری ہے۔

رپورٹ میں داعش کے ارکان کی جانب سے چھوٹے بچوں کی برین واشنگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے تاکہ انہیں تنظیم کے نظریات گھول کر پلا دیے جائیں اور یہ بچے مستقبل میں جاسوس، خودکش حملہ آور یا قاتل جلاد بن سکیں۔

رپورٹ کے مطابق دہشت گرد تنظیم میں 50 سے زیادہ برطانوی بچے اور تقریبا 800 برطانوی موجود ہیں جب کہ تنظیم میں شامل غیرملکی جنگجوؤں کی مجموعی تعداد 30 سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ داعش سے وابستہ شدت پسندوں کی تعداد 80 ہزار کے لگ بھگ ہے.. ان میں 50 ہزار شام میں اور 30 ہزار عراق میں ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش تنظیم میں ایک نیا شعبہ بنایا گیا ہے جس کی ذمہ داری پروان چڑھتی نسل کے ذہنوں میں تنظیم کی بنیادی نظریاتی سوچ کو منتقل کرنا ہے تاکہ اس نسل سے ایسے ارکان دستیاب ہوسکیں جو قتل و غارت، تباہی اور شدت پسند نظریات کے لیے تیار ہوں۔

تنظیم نئی نسلوں کو تشدد، موت کے گھاٹ اتارے جانے کے مناظر اور قتل کی کارروائیوں کو دکھا کر تربیت دے رہی ہے تاکہ ان کی زندگیوں سے بچپن کی روح نکال کر اس کی جگہ تشدد، قتل اور خون ریزی کی گہری پرچھائیاں پڑسکیں۔