.

اسرائیلی فورسز کا فلسطینی ٹی وی اسٹیشن کے دفتر پر دھاوا

رام اللہ میں فلسطینی ٹوڈے ٹیلی ویژن کے دفتر سے مینجر کو گرفتار کر لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی ٹوڈے (فلسطین الیوم) ٹیلی ویژن کے دفتر پر دھاوا بول کر اس کو بند کردیا ہے اور اس کے مینجر کو تشدد کی شہ دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیل کی داخلی سکیورٹی کی ذمے دار ایجنسی شین بیت نے فوج کے ساتھ مل کر جمعرات کی شب یہ کارروائی کی ہے۔شین بیت نے چینل پر جہاد اسلامی کی جانب سے نشریات پیش کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے فوج کے ساتھ مل کر اس کو بند کردیا ہے۔

اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''چینل مغربی کنارے میں جہاد اسلامی کی جانب سے لوگوں کو ترغیب وتحریص دینے کے لیے استعمال ہورہا تھا اور وہ اسرائیل اور اس کے شہریوں پر حملوں پر اکسا رہا تھا۔جذبات انگیز بیانات ٹیلی ویژن اسٹیشن کے علاوہ انٹرنیٹ سے بھی نشر کیے جا رہے تھے''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''اسرائیلی فورسز نے فلسطین الیوم کے مینجر چونتیس سالہ فاروق علیات کو گرفتار کر لیا ہے۔وہ رام اللہ سے شمال میں واقع علاقے بیر زیت کے رہنے والے ہیں اور جہاد اسلامی کے رکن ہیں۔انھیں اس سے قبل بھی ان کی سرگرمیوں پر اسرائیل میں قید کیا جاچکا ہے''۔

رام اللہ میں بندش کے باوجود اس چینل نے حماس کے زیر انتظام غزہ کی پٹی میں اپنی نشریات جاری رکھی ہوئی ہیں۔یادرہے کہ گذشتہ نومبر میں اسرائیل نے مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں دو ریڈیو اسٹیشن الحریت اور الخلیل بھی تشدد کو فروغ دینے کے الزام میں بند کردیے تھے۔

مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی یکم اکتوبر سے جاری تشدد آمیز کارروائیوں میں ایک سو اٹھاسی فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں سے بیشتر کے بارے میں اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے اور انھوں نے یہودیوں پر چاقو حملے کیے تھے یا اپنی گاڑیوں کو راہ گیروں پر چڑھا دیا تھا جس سے اٹھائیس اسرائیلی ، دوامریکی ،ایک سوڈانی اور ایک ایریٹرین شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو ئے ہیں۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی اپنی سرزمین پر جاری اسرائیلی قبضے اور یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں ،امن کوششوں میں کوئی پیش رفت نہ ہونے اور ان کی اپنی ضعف واضمحلال کا شکار قیادت کی ناکامیوں کی وجہ سےمایوسی کا شکار ہیں اور اس مایوسی کے عالم میں وہ اسرائیلیوں پر حملے کررہے ہیں جبکہ اسرائیل فلسطینی قیادت اور میڈیا کو تشدد کا مورد الزام ٹھہراتا ہے۔