.

میرا جانشین فکری و عملی انقلابی ہونا چاہیے:خامنہ ای

نومنتخب و سابق ارکان پارلیمنٹ کی سپریم لیڈر سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہ براعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے نو منتخب رہبر کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتے وقت اس امر کو یقینی بنائیں کہ نیا سپریم لیڈر فکری اور عملی طور پر ولایت فقیہ کے انقلاب کا علم بردار ہو اور اصلاح پسندوں کے نظریات سےاس کا کوئی تعلق نہ ہو۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق سپریم لیڈر نے ان خیالات کا اظہار رہبری کونسل کے سبکدوش اور نو منتخب ارکان کے ایک اجتماع سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے اپنے جانشین کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کا سپریم لیڈر کیسا ہونا چاہیے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ’میرے بعد میری جگہ رہبر انقلاب اسلامی میں تین شرائط ہونی چاہئیں۔ یہ کہ وہ آج تک انقلابی رہا ہو، اس کی فکر انقلابی ہو اور عملی طورپر وہ ایک انقلابی شخصیت تصور کیا جاتا ہوجس کا اصلاح پسندوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔

پروٹیسٹ کینسر کے شکار سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بارے میں ایران کے سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔ خود انہیں بھی یقین ہو گیا ہے کہ وہ زیادہ عرصہ تک اقتدار پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے رہبر کونسل کو اپنی وصیت میں بتا دیا گیا ہے کہ نیا سپریم لیڈر کیسا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر رہبر کونسل ان کی بیان کردہ شرائط سے ہٹ کر کسی کو سپریم لیڈر منتخب کرتی ہے کہ اس کے نتیجے میں ملک میں ولایت فقیہ کا موجودہ نظام درہم برہم ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کو تمام اختیارات کا مالک سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے تمام ادارے ان کے ماتحت اور گرفت میں رہتے ہیں۔ وہ مسلح افواج کا کمانڈر ان چیف ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا بھی اپنی مرضی سے تقرر کرتا ہے۔ گارڈٰین کونسل اور دستوری کونسل کے ارکان کے چناؤ میں بھی سپریم لیڈر کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ کسی بھی شخص کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے قبل سپریم لیڈر کا اس پر اعتماد ضروری ہے۔ سپریم لیڈر مجلس شوریٰ کے کسی بھی قانون کو منسوخ کر سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں اصلاح پسندوں کی جیت اور بنیاد پرستوں کو کم سیٹیں ملنے پر افسوس کا بھی اظہار کیا۔ خاص طور پر انہوں نے رہبر کونسل کے انتخاب میں آیت اللہ محمد یزدی، رہبر کونسل کے سابق سربراہ آیت اللہ مصباح یزدی کی شکست پر دکھ کا اظہار کیا۔

برطانوی میڈیا پر تنقید

ایرانی سپریم لیڈر نے فروری کے آخر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے چند روز قبل عالمی ذرائع ابلاغ بالخصوص برطانوی میڈٰیا کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے الزام عاید کیا تھا کہ برطانوی ذرائع ابلاغ ایران میں مخصوص لوگوں کی حمایت اور ووٹ بنک بڑھانے کی مہم چلا رہے ہیں۔

برطانوی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے سپریم لیڈر نے کہا کہ ’ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایرانی قوم کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ فلاں کو ووٹ دیں اور فلاں کو نہ دیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ جب ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ پورے شعوراور صبروتحمل کے ساتھ ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلیں تو ہمارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام ایران کے دشمنوں کے خلا ف ووٹ دیں‘‘۔