.

اہل تشیع کے دفاع کے لیے کہیں بھی جا سکتے ہیں: روحانی

’اہل بیت کے مزارات سرخ لکیر ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے اصلاح پسند صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اہل تشیع کو جہاں کہیں بھی دہشت گردوں سے خطرہ ہوا تو ایران ان کے دفاع کو ضروری پہنچے گا۔ان کا کہنا تھا ایران اہل تشیع کے دفاع کے لیے کسی بھی مقام پر مداخلت کر سکتا ہے۔

ایرانی صدر نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی ہے جب تہران پہلے ہی شام، عراق اور کئی دوسرے عرب ممالک میں کھلم کھلا مداخلت کا مرتکب ہے۔ ان تمام ملکوں میں ایرانی مداخلت کے پس پردہ اہل تشیع کے مفادات کا تحفظ بتایا جاتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اہل بیت کے مزارات سرخ لکیر ہیں۔ ان کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد اہل بیت کے مزارات کو نقصان پہنچانے کے ساتھ اہل تشیع کے لیے خطرہ بنیں گے تو ہم وہاں مداخلت ضرور کریں گے۔ ہم اہل تشیع پر ظلم برداشت نہیں کریں گے۔ ہمیں حکم ہے کہ اگر ہمارے مسلمان بھائی ظلم کا شکار ہوں اور اہل بیت کے مراقد کو خطرات لاحق ہوں تو ان کے دفاع کے لیے وہاں ضرور پہنچیں۔

ایرانی صدر کا بیان درپردہ عرب ممالک میں مداخلت کا اشارہ ہے۔ اس نوعیت کے بیانات ایرانی لیڈروں کی جانب سے اکثر سامنےآتے رہتے ہیں۔ ایران کی مدد سے اس وقت شامی صدر بشارالاسد اپنی عوام کا وحشیانہ قتل عام کررہا ہے۔ ایران اہل تشیع دفاع کی آڑ میں شام میں مداخلت کا مرتکب ہے۔ عراق میں بھی ایران نواز حکومت قائم ہےجو تہران کے اشاروں پر چل رہی ہے۔