.

حزب اللہ سے تعلق پر متعدد لبنانی بحرین سے بے دخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کی وزارت داخلہ نے شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں متعدد لبنانیوں کو ملک سے بے دخل کر دیا ہے۔

بحرینی وزارت داخلہ نے سوموار کو ایک ٹویٹ میں ان لبنانیوں کو بے دخل کرنے کی اطلاع دی ہ؛ے اور یہ اقدام سعودی عرب کے اس اعلان کے ایک روز بعد کیا گیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ جنگجو گروپ حزب اللہ کے ہمدرد کسی بھی شخص کو ملک سے بے دخل کردیا جائے گا۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مملکت کے انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کسی دہشت گرد گروپ سے تعلق رکھنے والے سعودیوں اور تارکین وطن کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بائیس ممالک پر مشتمل عرب لیگ نے گذشتہ جمعہ کو حزب اللہ کو باضابطہ طور دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھی۔اس سے پہلے چھے خلیجی عرب ریاستوں پر مشتمل خلیج تعاون کونسل بھی ایران کی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا کو دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔تنظیم کے رکن ممالک نے اپنے شہریوں کے لبنان جانے پر پابندی عاید کر دی تھی یا پھر انھیں ہدایت کی تھی کہ وہ لبنان کے سفر سے گریز کریں۔

واضح رہے کہ بحرین کے دارالحکومت منامہ کے نواح میں واقع دیہات میں اہل تشیع حکومت کے خلاف آئے دن مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔پانچ سال قبل 2011ء میں بھی بعض دوسرے عرب ممالک کی طرح بحرین میں اہل تشیع نے حکومت مخالف تحریک چلائی تھی لیکن سکیورٹی فورسز نے اس پر قابو پالیا تھا۔

بحرینی حکومت نے پڑوسی ملک ایران پر اہل تشیع کو شہ دینے اور ملک میں گڑ بڑ پھیلانے کے لیےاسلحہ مہیا کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور بحرینی فورسز نے مختلف چھاپا مار کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کو اسلحے سمیت گرفتار کیا تھا۔

بحرین میں گذشتہ ہفتے تین افراد کو دو سال قبل شیعوں کی آبادی والے ایک گاؤں میں ایک بس پر حملے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی اور اسی حملے میں ملوّث ایک اور شخص کو پندرہ سال قید کی سزا کا حکم دیا گیا تھا۔