.

داعشی نوجوانوں کی 10 علامات ۔۔۔ آپ بھی جانیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فکری تحفظ و سلامتی سے متعلق پروگرام سے وابستہ ایک سعودی تجزیہ نگار نے داعشی نظریات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد تنظیم سے قربت رکھنے والے لوگوں کی شناخت کے لیے 10 علامات مختص کی ہیں۔ عام لوگوں کے لیے یہ بات دلچسپی کی حامل ہو گی کہ داعشی نوجوانوں میں ایسی کون سی 10 باتیں مشترک ہوتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے فکری تحفظ کے لیے قائم کردہ سپریم کمیٹی کے رکن ڈاکٹر محمد العقیل نے بتایا کہ اگر درج ذیل دس علامات کسی شخص میں ظاہر ہونے لگیں تو اس کے گردو پیش کے لوگوں کو اس کے بارے میں غور کرنا چاہیے کہ کہیں وہ انتہا پسندانہ نظریات کی طرف تو نہیں بڑھ رہا ہے۔ ایسے لوگوں سے رابطہ بڑھا دینا چاہیے اور ان سے سوال ، جواب اور بات چیت وسیع کرنی چاہیے تاکہ اس کے خیالات سے اچھی طرح آگاہی حاصل کر کے انہیں خطرناک راستے کی طرف جانے سے روکا جا سکے۔ ایسے لوگوں کو مواعظ حسنہ اور پیار سے سمجھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ انتہا پسندی کی طرف نہ مائل نہ ہو۔ انہوں نے داعشی نوجوانوں میں پائی جانے والی دس علامات بیان کیں جوکہ درج ذیل ہیں۔

1۔۔ ایسا شخص جو خود کش کارروائیوں کی باتیں زیادہ کرنے لگے، خود کشی کو انعام سمجھتے ہوئے اسے شہادت اور جنت کے حصول کا ذریعہ گردانے۔ گوکہ علماء جنت اور شہادت کی آرزو کرنے سے منع نہیں کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ محاذ جنگ کی طرف جانے کی خواہش کرے اور کہے کہ فلاں فلاں محاذ جنگ پر اتنے لوگ گئے اور اتنے شہید ہوئے۔ سوشل میڈیا پر وہ جنگ سے متعلق تصاویر، خبریں اور فوٹیج شیئر کرے۔

2۔۔ ایسا نوجوان جو شدت پسند ، فتنہ پرور مبلغین اور انقلابی لیڈروں کی تقاریر سننے میں دلچسپی رکھے۔ ایسے لوگوں کے پیچھے چلے جو انقلاب کے مظاہروں اور دھرنوں پر زور دیتے پھرتے ہیں۔

3۔۔ اعتدال پسند علماء کی باتوں، تقاریر اور فتاویٰ کو مشکوک قرار دینے کی کوشش کے ساتھ ساتھ یہ تاثر دے کہ فلاں فلاں درباری علماء ہیں اس لیے ان کے فتوے قبول نہیں کیے جا سکے۔

4۔۔ معاشرے کو مایوسی کی نظروں سے دیکھے اور یہ سوچے کہ ان میں اب کوئی بھلائی باقی نہیں رہی۔

5۔۔ وہ نوجوان جو اپنے والدین اور عزیزو اقارب سے الگ تھلگ ہو جائے اور ان سے نفرت کرنے لگے۔ ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور ملنے جلنے سے گریز کرے۔

6۔۔ دوستوں سے چوری چھپے ملاقاتیں کرتا پھرے

7۔۔ حکمرانوں سے کینہ اور بغض رکھے اور ہر ایک کے سامنے انہیں کوسے۔

8۔۔ اپنے حواس کو غلطی اور کوتاہی پر مرکوز رکھے۔

9۔۔ گناہ کبیرہ کے مرتکب لوگوں کو کافر قرار دینے کی روش اپنائے۔

10 اور فکری طور پر گمراہ لوگوں سے اپنا تعلق قائم کرنے کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی ایسے ہی لوگوں کو اپنا دوست بنائے اوران کا دوست بنے جو تکفیری نظریات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہوں۔ ان کے فتاویٰ کو نقل کرے، انہیں پسند کرتے ہوئے انہیں شیئر کرے۔ اگر کسی میں مذکورہ تمام علامات پائی جائیں تو ایسے شخص کے قرب وجوار میں موجود لوگوں کو اس کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے کہ مبادیٰ وہ گمراہی کے راستے پرتونہیں چل رہا ہے۔