.

غربِ اردن: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تین فلسطینی شہید

مقتولین پر ایک یہودی بستی میں راہ گیروں پر فائرنگ اور گاڑی چڑھانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کے نزدیک اسرائیلی فوجیوں نے تین فلسطینیوں کو فائرنگ کر کے شہید کردیا ہے اور حسب روایت یہ بیان جاری کیا ہے کہ انھوں نے اسرائیلیوں پر دو حملے کیے تھے،ان پر فائرنگ کی تھی اور گاڑی چڑھا دی تھی۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''دو حملہ آوروں نے سوموار الخلیل کے نزدیک واقع یہودی بستی کیریات عربہ کے داخلی حصے میں ایک بس اسٹاپ پر کھڑے راہ گیروں پر گولی چلا دی تھی۔وہاں پہرے پر مامور فورسز نے جوابی فائرنگ کر کے حملہ آوروں کو ہلاک کردیا ہے''۔

''اس واقعے کے چند لمحے کے بعد ایک اور حملہ آور نے اپنی گاڑی ایک فوجی گاڑی سے ٹکرا دی تھی۔اس خطرے سے نمٹنے کے لیے فورسز نے فوری جوابی فائرنگ کردی جس سے حملہ آور مارا گیا ہے''۔

اسرائیلی فوج نے مزید کہا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں ایک فوجی زخمی ہوگیا ہے اور کار چڑھانے کے واقعے میں دو اور فوجیوں کو معمولی زخم آئے ہیں۔اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ فلسطینی حملہ آوروں نے پستول اور سب مشین گن استعمال کی تھی۔

مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یکم اکتوبر سے تشدد کے اس طرح کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔اسرائیلی سکیورٹی فورسز تشدد آمیز کارروائیوں میں 191 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ان میں سے بیشتر کے بارے میں اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے اور انھوں نے یہودیوں پر چاقو حملے کیے تھے ،فائرنگ کی تھی یا اپنی گاڑیوں کو راہ گیروں پر چڑھا دیا تھا جس سے 28 اسرائیلی ، دو امریکی ،ایک سوڈانی اور ایک ایریٹرین شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو ئے ہیں۔

بیشتر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی اپنی سرزمین پر جاری اسرائیلی قبضے اور یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں ،امن کوششوں میں کوئی پیش رفت نہ ہونے اور ان کی اپنی ضعف واضمحلال کا شکار قیادت کی ناکامیوں کی وجہ سےمایوسی کا شکار ہیں اور اسی مایوسی کے عالم میں وہ اسرائیلیوں پر حملے کررہے ہیں جبکہ اسرائیل فلسطینی قیادت اور میڈیا کو تشدد کا مورد الزام ٹھہراتا ہے۔