.

''عبوری مرحلہ" نام کی کوئی چیز نہیں: بشار الجعفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت کی جانب سے جنیوا امن عمل کی کامیابی کے حوالے سے غیرسنجیدہ رویے کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔ جنیوا میں شامی حکومت کے مذاکراتی وفد کے سربراہ بشار الجعفری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ "عبوری مرحلہ" نام کی کوئی شے وجود نہیں رکھتی''۔ انھوں نے شامی حکومت کے وزیر خارجہ کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ صدر بشار الاسد کے مستقبل کے بارے میں کسی بھی قسم کی گفتگو کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔

پیر کے روز سے مذاکرات کا نیا دور جنیوا میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں شروع ہو رہا ہے۔ اس میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ شام میں حکومت کے خلاف عوامی انقلابی تحریک چھٹے برس میں داخل ہو گئی ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا نے دو روز قبل واضح کیا تھا کہ مذاکرات میں تین معاملات پر توجہ مرکوز ہوگی جن میں ایک جامع حکومت کی تشکیل، نئے آئین کی تیاری اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں 18 ماہ کی اندر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانا شامل ہیں۔ یہ 18 ماہ کی مدت پیر کے روز شروع ہونے والے مذاکرات کے وقت سے شمار کی جائے گی۔

ڈی مستورا نے گذشتہ ماہ کے اختتام پر سلامتی کونسل کے سامنے باور کرایا تھا کہ شام میں مطلوب امر "سیاسی منتقلی کی کارروائی" تک پہنچنا ہے۔