.

یمن : تعز شہر پر بمباری اور جھڑپوں میں 17 باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شہر تعز میں مسلح ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر اتحادی طیاروں کی بمباری اور شہر کے مشرقی اور شمالی محاذوں پر شدید جھڑپوں میں حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کے 17 جنگجو مارے گئے۔

اس دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر حملوں کے دوران سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے 10 اہل کار جاں بحق ہوگئے۔

تعز شہر کے مغربی اور جنوبی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کار اب شہر کے شمالی اور مشرقی حصوں پر پے در پے حملے کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ تعز صوبے کا محل وقوع اسٹریٹجک جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ صوبہ دارالحکومت صنعاء اور عدن شہر دونوں کے درمیان میں واقع ہے۔ صنعاء سے اس کا فاصلہ 256 کلومیٹر اور عدن سے 200 کلومیٹر ہے۔ مغرب کی جانب سے یہ بحر احمر پر واقع ہے اور یہاں المخا کی بندرگاہ بھی ہے جو ساحلی صوبے الحدیدہ سے ملتی ہے۔

تعز میں سرکاری فوجی اور عوامی مزاحمت کاروں نے جنوبی اور مغربی محاذ پر چار محوروں سے پیش قدمی کی۔

- پہلے محور میں الدحی کراسنگ تک پہنچنے میں کامیابی ہوئی۔

- دوسرے محور میں حبیل سلمان اور تعز یونی ورسٹی سے پیش قدمی کی گئی۔

- تیسرے محور میں سرکاری فوج نے مرکزی جیل اور اس کے نواحی ٹیلوں کا کنٹرول واپس لیا جس کے نتیجے میں الضباب کے محاذ کو جنوبی کی جانب سے مغربی محور سے متصل کردیا گیا۔

- چوتھے محور میں ایئرپورٹ کے علاقے کے گرد پیش قدمی کی گئی اور بریگیڈ 35 کے مرکز پر کنٹرول حاصل کرلیا گیا اور اس کے بعد مغربی سمت سے محاصرہ توڑ دیا گیا۔

اس وقت تعز کے شمالی اور مشرقی محاذوں پر جھڑپیں جاری ہیں.. جن میں مشرقی سمت میں معزول صدر صالح کی حامی فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں زیادہ شدت نظر آرہی ہے۔ مذکورہ علاقے میں ایئرپورٹ، انڈسٹریل سٹی اور فوجی ٹھکانے شامل ہیں۔

تعز میں پیش قدمی سے سرکاری فوج کے لیے امداد اور کمک کے راستے بھی کھل رہے ہیں خواہ وہ عدن سے ہوں یا المخا کی بندرگاہ کے راستے.. اس کے علاوہ صنعاء کی جانب شمالی راستے سے حرکت میں آنے کے لیے بھی راہ ہموار ہوگی۔