.

انخلاء کے بعد روسی فوج کی واپسی ممکن ہے: بثینہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشار الاسد کی ایک اہم مشیر کا کہنا ہے کہ روس کی افواج شام سے انخلاء کے بعد واپس بھی آسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب امریکا کو چاہیے کہ ترکی اور سعودی عرب پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپوزیشن کے مسلح ارکان کی امداد کا سلسلہ روک دیں۔

المیادین ٹی وی چینل (جس کا صدر دفتر لبنان میں ہے) کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بثینہ شعبان کا کہنا تھا کہ " اگرچہ ہمارے دوست ملک روس نے اپنی افواج کا کچھ حصہ واپس بلا لیا ہے.. تاہم اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان کی واپسی ممکن نہیں"۔

روسی صدر ولادیمر پوتین نے پیر کے روز ایک حیران کن اعلان میں کہا تھا کہ شام میں روسی افواج کے زیادہ تر حصے کو واپس بلا لیا جائے گا۔

روس نے گزشتہ سال ستمبر سے دمشق حکومت کی مدد کا آغاز کیا تھا اور اپنے چھٹے برس میں داخل ہوجانے والے تنازع میں لڑائی کے میدان میں بھرپور انداز سے شرکت کی۔

گزشتہ ماہ روس کا کہنا تھا کہ بشار الاسد اس کی سفارتی کوششوں کے ساتھ یکساں سطح پر نہیں چل رہے.. جس سے ان قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا کہ پوتین شامی صدر پر جنیوا میں امن بات چیت کے حوالے سے مزید لچک دار موقف کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں.. جب کہ بشار الاسد کی حکومت صدارت کے موضوع کو زیربحث لانے یا اقتدار کی منتقلی پر مذاکرات کو خارج از امکان قرار دے چکی ہے۔

تاہم بثینہ شعبان نے پوتین کی جانب سے دمشق حکومت پر کسی بھی دباؤ کی تردید کرتے ہوئے باور کرایا کہ شامی افواج خودمختار ہیں اور اس کی فوجی صلاحیتیں قابل اعتماد ہیں۔

انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ "روس نے مذکورہ قدم دمشق حکومت کے ساتھ مشاورت سے اٹھایا ہے.. لہذا روسی اقدام کو دمشق حکومت پر دباؤ سے جوڑنا قطعا بے بنیاد ہے"۔