.

تعز میں خوراک کے ساتھ فوجی ساز وسامان روانہ

حکومتی فوج کے حملے میں مزید 22 حوثی باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے محاذ جنگ سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یمن کے جنگ زدہ شہر تعز میں متاثرہ شہریوں کے لیے خوراک اور امدادی سامان کے ساتھ ساتھ بھاری مقدار میں فوجی ساز وسامان کی کھیپ بھی پہنچا دی گئی ہے جسے حکومتی فوج اور اس کی حامی ملیشیا باغیوں کے خلاف لڑائی میں استعمال کر سکے گی۔

یمن کے ایک باوثوق ذریعے نے’العربیہ‘ نیوز چینل کو بتایا کہ عرب اتحادی ممالک کی جانب سے تعز میں مزید فوجی ساز و سامان ارسال کیا گیا ہے تاکہ شہر کے مشرقی علاقوں الحوبان اور الجند سمیت دیگر مقامات پر لڑائی کے دوران حکومتی فورسز کی مدد کی جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تعز کا محاصرہ توڑنے کے بعد عدن اور تعز اور صنعاء اور تعز کے درمیان اب گورنری کے راستے رابطہ سڑکیں بحال کر دی گئی ہیں۔

ادھر تعز شہر کے مشرقی حصے میں شاہراہ 60 پرحکومتی فوج اور باغیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ کی اطلاعات ہیں۔ یمن کی نیشنل آرمی اور مزاحمت کاروں نے منگل کے روز حملوں میں حوثی باغیوں کے 22 جنگجو ہلاک کر دیے۔ دوسری جانب باغیوں کی شہری آبادی پر اندھا دھند گولہ باری سے ایک شہری شہید اور نو زخمی ہو گئے۔

مشرقی تعز میں جہاں یمن کی فوج زمینی پیش قدمی کر رہی ہے عرب اتحادی طیاروں کے ذریعے بھی باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے۔ گذشتہ روز مشرقی تعز میں تبۃ السلاسل، قصر الشعب، المتکامل اور صالہ ڈاریکٹوریٹ کے مقامات پر باغیوں کے ٹھکانوں پر عرب اتحادی طیاروں نے بمباری کر کے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

ادھر تعز کے ساحلی علاقے ذباب میں باغیوں نے گھی اور صابن کی فیکٹریوں پر گولہ باری کر کے انہیں تباہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی فوج نے الوازعیہ کے علاقے سے حوثی ملیشیا اور منحرف صدر علی عبداللہ صالح کی وفاداروں کو نکال باہر کرتے ہوئے اس کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔

یمن کے فوجی ذرائع کے مطابق فوج اور مزاحمت کار تعز کے مغربی علاقے الربت میں تعز اور الحدیدہ شاہراہ پرپیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دوران انہیں عرب اتحادی طیاروں کی معاونت بھی حاصل ہے۔