.

روسی فوج کی واپسی، النصرہ کی شام میں بڑے حملے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی فوج کی شام سے واپسی کے آغاز کے ساتھ ہی شدت پسند عسکری تنظیم النصرہ فرنٹ نے شام میں ایک بڑے حملے کی دھمکی دی ہے۔ فرنٹ کے ایک لیڈر نے خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ کو بتایا ان کے جنگجو اگلے 48 گھنٹے میں شام میں ایک بڑی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔

شدت پسند گروپ کے عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ روسی فوج کی واپسی ماسکو کی شامی باغیوں کے ہاتھوں شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ النصرہ فرنٹ اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران شام میں مزید حملے شروع کر رہی ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ کارروائیاں کہاں کی جائیں گی۔

’اے ایف پی‘ سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے النصرہ فرنٹ کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ان کی کامیاب عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں روسی فوج کو شام سے بھاگنا پڑا ہے۔ روس کا فوج واپس بلانے کا اعلان اس کا ثبوت ہے کہ اسد رجیم نے روس کو خوب شرمندہ کیا ہے۔

اسدی فوج اپنے زیرکنٹرول علاقوں پر اپنا تسلط برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہی۔ روس کے جانے کے بعد بہت سے علاقوں میں نہ سرکاری فوج رہی ہے اور نہ ہی غیر سرکاری ملیشیا موجود ہے۔ ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے شدت پسند گروپ کے کمانڈر نے بتایا کہ وہ اس وقت اللاذقیہ شہر میں ہیں جہاں اب ان پر روسی طیارے بمباری نہیں کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ روس میں حکومت کے خلاف سرگرم ایک سرکردہ شدت پسند گروپ کی جانب سے کارروائیوں کی دھمکی پر مبنی یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شامی حکومت کے دیرینہ اتحادی روس نے اپنی فوجیں شام سے واپس بلانا شروع کر دی ہیں۔ صدر ولادی میر پوتن کے حکم پر گذشتہ روز چند جنگی طیارے شام سے واپس چلے گئے ہیں۔ باقی فوج بھی جلد ہی واپس ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ روس نے پچھلے سال 30 ستمبر کو شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع کے لیے اپنی فوجیں دمشق میں اتاری تھیں۔ روسی فوج کا آپریشن فضائی کارروائیوں تک محدود رہا ہے۔ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ اس کا ہدف شدت پسند گروپ داعش اور اس کی حامی تنظیمیں ہیں مگر روس پر اعتدال پسند شامی اپوزیشن کے مراکز پر حملوں کا بھی الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔ روس کے حملوں کے بعد شامی فوج کو بعض علاقے باغیوں سےواپس لینے کا موقع ملا۔ خاص طور پر اللاذقیہ میں شامی فوج نے کافی پیش قدمی کی تھی، مگر اب حالات ایک بار پھر بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔