.

یمن : اقوام متحدہ کے ایلچی مشاورت کے لیے صنعاء میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد سفارتی کوششوں کے نئے دور کے سلسلے میں صنعاء پہنچ گئے.. جہاں وہ حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کی قیادت کے ساتھ مشاورت کریں گے۔ ولد الشیخ نے اس امید کا اظہار کیا کہ بات چیت کا دور رواں ماہ کے اواخر میں منعقد ہوجائے گا۔

اس سے قبل ولد الشیخ نے سعودی دارالحکومت ریاض میں یمن کے صدر عبدربہ منصور ہادی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر یمنی صدر نے باور کرایا کہ خلیجی منصوبے اور قومی مکالمے کی کانفرنس کے نتائج کی روشنی میں جامع اور مستقل امن کو یقینی بنانے کے لیے تمام دروازے کھلے ہیں۔

دوسری جانب ولد الشیخ نے تصدیق کی ہے کہ بات چیت کے نئے دور کے انعقاد کے لیے یمنی فریقوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

یمنی حکومت واضح کرچکی ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 پر عمل درامد کی بنیاد پر پرامن سیاسی حل کے لیے تیار ہے.. مزید یہ کہ اس پر عمل درامد میں تاخیر صرف دوسرے فریق کے تیار نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔

ادھر اقوام متحدہ میں یمن کے مندوب خالد الیمانی کا کہنا ہے کہ حوثی اور صالح کی ملیشیاؤں پر ڈالے جانے والے دباؤ کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت زیادہ مؤثر طریقے سے مذاکرات کا نیا دور شروع کرنے پر قادر ہوگی جہاں وہ امور کو آخری شکل دے گی۔ الیمانی نے زور دے کر کہا کہ آئندہ دور فیصلہ کن ہوگا اور حکومت گزشتہ مشاورتوں کے ایجنڈے پر عمل درامد کے لیے کام کرے گی۔