.

مصر: شمالی سیناء میں دہشت گردی، ہلاکتوں کی تعداد 18 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ذرائع نے بتایا ہے کہ شمالی سیناء صوبے کے شہر العریش میں ہونے والی دہشت گرد کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے جن میں 4 افسران بھی شامل ہیں. دوسری جانب ٹوئیٹر پر داعش تنظیم کے مخلتف اکاؤنٹس پر جاری کیے گئے پیغامات میں تنظیم کی جانب سے کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی گئی ہے۔

عینی شاہدین نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ دھماکے کے مقام کی جانب جانے والی ایمبولینس کی گاڑیوں پر مسلح افراد نے فائرنگ کر ڈالی، جب کہ مسلح افراد اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ بھی ہوا جس کے بعد اپاچی ہیلی کاپٹروں نے علاقے کی فضا میں گشت کیا تاکہ مجرموں کو تلاش کیا جا سکے۔

عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ کارروائی کے دوران کافی بڑے دھماکے بھی ہوئے جنہوں نے العریش شہر کو ہلا کر رکھ دیا. بعد ازاں واضح ہوا کہ دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کے ٹھکانے کو کار بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا تھا جس کے بعد مارٹر گولے داغے گئے۔ اس کے نتیجے میں مذکورہ ٹھکانہ تباہ ہو گیا۔

مصری وزارت داخلہ کے میڈیا ذمہ دار نے بتایا کہ حملے میں متعدد پولیس اہل کار ہلاک ہوئے جن میں کئی افسران اور 10 نئے بھرتی ہونے والے اہل کار شامل ہیں۔

شمالی سیناء کی سیکورٹی فورسز نے حملہ آوروں کا تعاقب کیا۔ تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں کے دوران ان میں سے 5 تخریب کاروں کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔

ادھر مفتی مصر ڈاکٹر شوقی علام نے کارروائی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے باور کرایا کہ دہشت گردی ابھی تک قیمتی جانوں کے خاتمے اور خون ریزی کا سبب بن رہی ہے. دہشت گرد دنیا میں فساد پھیلانے کے بدلے میں دنیا اور آخرت میں اللہ اس کے رسول اور تمام مؤمنین کی لعنت کے مستحق ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہداء کی روحین قیامت کے روز اللہ کے سامنے انتہا پسند اور دہشت گرد جماعتوں سے مخاصم ہوں گی۔ حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ "قیامت میں اللہ رب العزت سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ فرمائیں گے وہ وہ خون (لہو) ہے"۔