.

کیا بشار الاسد نے اپنے بھائی ماہر کو الگ کردیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو روز سے اس طرح کی خبریں آرہی تھیں کہ شامی فوج کی فورتھ ڈویژن (جس کی قیادت شامی صدر بشار الاسد کے بھائی ماہر الاسد کے ہاتھ میں ہے).. اور ریپبلکن گارڈز کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ یہ خبر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بنا تصدیق کے پھیل رہی تھی جس کے نتیجے میں اسے محض افواہ گمان کیا جا رہا تھا۔

تاہم شامی حکومت نواز "اللاذقیہ نیوز نیٹ ورک" کے اس خبر کے قریب جانے پر متعدد شامی ویب سائٹوں نے اسے آگے بڑھانا شروع کردیا۔ مذکورہ نیٹ ورک نے فیس بک پر اپنے پیج پر

"انتہائی اہم" کے عنوان سے یہ خبر پوسٹ کی ہے کہ.. ماہر الاسد کو فورتھ ڈویژن میں بریگیڈ 42 کی قیادت سے ہٹا کر شامی سرکاری افواج کے جنرل اسٹاف منتقل کردیا گیا ہے.. تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

یہ خبر شام میں متعدد متعلقہ ویب سائٹوں پر پھیل گئی تاہم سرکاری میڈیا نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ خبر گردش میں آئی کہ اپنی مجرمانہ کارروائیوں کے سبب معروف ماہر الاسد کو ایک جانب لگا دیا گیا ہے جب کہ ایک مرتبہ یہ کہا گیا کہ یہ انقلاب کی ناکام کوشش تھی جس پر تہران حکومت آمادہ نہیں ہوئی.. جب کہ سوشل میڈیا پر بعض لوگوں نے اس خبر کو بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد ماہر الاسد کو ترقی دینا ہے اور "اسٹاف کمیٹی" میں معلومات کے شعبے کا انتظام ماہر کے حوالے کیا جارہا ہے۔

اگرچہ شامی حکومت کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے.. تاہم یہ بات سب جانتے ہیں کہ ماہر الاسد بہت ہی کم سامنے آتے ہیں.. بلکہ 18 جولائی 2012 کو دمشق میں قومی سلامتی کی عمارت کو دھماکے میں نشانہ بنائے جانے کی کارروائی میں ماہر الاسد کے زخمی ہونے کی افواہ پھیل گئی تھی.. اور اس کے بعد سے ان کا منظرعام پر آنا ریکارڈ میں نہیں !