.

ایرانی وزیر کا ممنوعہ ویب سائٹوں تک رسائی کا ُگر !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر ثقافت علی جنتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "فیس بک" پر اپنے ایک مخاطب کو جواب دیتے ہوئے.. بلاک شدہ ویب سائٹیں کھولنے کے لیے سافٹ ویئر استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

"تقاطع" نامی ایک ویب سائٹ نے فیس بک پر جنتی کے اس تبصرے کی تصویر جاری کی ہے جو انہوں نے سوال پوچھنے والے کے جواب میں تحریر کیا۔ جنتی نے کہا کہ " میں ایران میں نہیں ہوں لہذا بلاک کو ختم کرنے والے پروگرام کے بغیر ہی ویب سائٹیں کھول لیتا ہوں.. تاہم آپ لوگ بلاک شدہ ویب سائٹوں میں Any Connect نامی سروس کے ذریعے داخل ہوسکتے ہیں"۔

اس کے بعد بہت تیزی سے ایرانی وزیر کے پیج پر تبصروں کا طوفان امڈ آیا۔ ان میں سراہے جانے کے ساتھ ساتھ نکتہ چینی کے تبصرے بھی شامل تھے.. بہت سے لوگوں نے ایران میں انٹرنیٹ کے آزادانہ استعمال پر حکام کی جانب سے عائد پابندیوں کے حوالے سے وزیر ثقافت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

یاد رہے کہ ایرانی حکام نے جون 2009 میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دوبارہ منتخب ہونے پر شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے وقت سے ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹوں بالخصوص فیس بک اور ٹوئیٹر کو منظم طریقے سے بند کردیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپوزیشن کے ارکان اپنے حامیوں کو جمع کرنے کے لیے سماجی رابطے کی ویب سائٹوں کا استعمال کررہے تھے۔

جہاں تک ایرانی صدر حسن روحانی کا تعلق ہے تو وہ انٹرنیٹ کی نگرانی اور کنٹرول کو لچک دار بنانے پر زور دیتے ہیں۔ ایران میں 3 کروڑ سے زیادہ افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں.. جن میں بہت سے لوگ سرکاری پابندی کے توڑ کے لیے مختلف سافٹ ویئر کا سہارا لیتے ہیں۔

"رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز" نامی تنظیم نے ایران کی درجہ بندی 2016 کے دوران انٹرنیٹ اور صحافت کی آزادی پر بدترین روک لگانے والے ممالک میں کی تھی.. اس کے علاوہ بلاگرز اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کے خلاف گرفتاریوں کے سلسلے کی بھی بھرپور مذمت کی گئی۔