.

عراق: دھرنا ختم کرنے کے لیے مقتدیٰ الصدر کی 26 شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر نے دارالحکومت بغداد میں گرین زون کے مقام پر اپنے ہزاروں حامیوں کے ہمراہ دھرنا جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے دھرنا ختم کرنے کے لیے حکومت کو 26 شرائط پیش کی ہیں۔ اہم ترین شرائط میں کرپٹ عناصر کا بے لاگ احتساب، تیل کی آمدن سے تمام شہریوں کو حصہ فراہم کرنا اور ملک کے تمام شعبوں میں جوہری اصلاحات شامل ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق مقتدیٰ الصدر نے صدر جمہوریہ، کابینہ، پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں پر اپنے مطالبات کو نظرانداز کرنے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ وہ مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رکھیں گے۔

انہوں نے اپنے مطالبات کی ایک لمبی چوڑی فہرست جاری کی ہے جس میں ملک سیاسی نظام، عدلیہ، آئین ساز کونسل، انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں ںے سیاسی جوڑ توڑ کے خاتمے اور ٹیکنوکریٹ پر مشتمل قومی حکومت کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا۔ دستور کی بعض دفعات پرنظرثانی، الیکشن کمیشن اور سینٹرل بنک کو حکومتی اداروں کے مداخلت سے آزاد کرنے، سنہ 2003ء کے بعد اعلیٰ عدلیہ سے وابستہ رہنے والے کرپٹ ججوں کے احتساب، عدلیہ کی آزادی، سیکیورٹی اداروں کو فرقہ واریت سے پاک کرنے، ملک بھر میں پانی اور بجلی کے نظام کی بہتری، تیل کی آمدن سے تمام شہریوں کومستفید کرنے اور ملک میں معاشی اصلاحات جیسے اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔ اپنے مطالبات کے ساتھ انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ شرائط پرعمل درآمد کے لیے ڈیڈ لائن جاری کرے ورنہ وہ دھرنا جاری رکھیں گے۔