.

"اسلامی فوجی اتحاد" کا پہلا اجلاس آئندہ چند روز میں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر دفاع کے مشیر اور اسلامی فوجی اتحاد کے سرکاری ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نے روزنامہ الریاض کو دیے گئے بیان میں بتایا ہے کہ سعودی عرب آئندہ چند روز میں دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے اسلامی فوجی اتحاد کے پہلے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

عسیری کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد چار مرکزی محوروں پر کام کر رہا ہے.. ان میں فکری، مالی اور عسکری محوروں کے ساتھ چوتھا محور ذرائع ابلاغ کا ہے۔ اس دوران انہوں نے شمال کی گرج مشقوں اور اتحاد میں شامل افواج کے درمیان کسی بھی تعلق کی تردید کی.. اور واضح کیا کہ شمال کی گرج خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے لیے بنیادی مشقیں تھیں اور یہ اتحادی افواج کے لیے نہیں تھیں۔

سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے گزشتہ سال دسمبر میں انسداد دہشت گردی کے لیے ایک اسلامی فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا.. اور واضح کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف برسرجنگ اس اتحاد کی عسکری کارروائیوں میں تعاون اور ان کی سپورٹ کے لیے مشترکہ آپریشنز روم سعودی دارالحکومت ریاض میں قائم کیا جائے گا۔

سعودی عرب کے زیرقیادت اس اتحاد میں 34 اسلامی ممالک شامل ہیں جن میں 17 عرب ممالک ہیں۔