.

بین کی مون: فلسطینی کیمپ کی تعمیرنو کے لیے امداد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے عالمی برادری سے لبنان میں 2007ء میں القاعدہ سے وابستہ ایک گروپ کے خلاف لڑائی کے دوران تباہ شدہ فلسطینی کیمپ کی تعمیر نو کے لیے مالی امداد مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔

وہ لبنان میں فلسطینی مہاجرین کے لیے قائم کیمپ نہرالبارد کے دورے کے موقع پر گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے ایک وہاں ایک اسکول کا معائنہ کیا اور انھیں کیمپ میں تعمیرنو کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

لبنانی فوج نے اس کیمپ میں القاعدہ سے متاثر فتح الاسلام گروپ سے 2007ء میں تین ماہ تک لڑائی لڑی تھی۔لبنانی فوج اس جنگجو گروپ کو کچلنے میں تو کامیاب ہوگئی تھی لیکن اس کارروائی میں 170 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوگئے تھے اور کیمپ کو شدید نقصان پہنچا تھا جبکہ کیمپ کے مکین دربدر ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔

اب قریباً ایک عشرے کے بعد بھی تعمیراتی کام مکمل نہیں ہوا ہے اور بہت سے مکین کیمپ میں واپسی کے منتظر ہیں۔بین کی مون نے کیمپ کے دورے کے بعد کہا کہ ''قریباً نصف تعمیراتی کام ہوا ہے اور ابھی بہت سے لوگ واپسی کے منتظر ہیں۔میں عالمی برادری پر زوردوں گا کہ وہ کم سے کم بیس کروڑ ڈالرز کی رقم مہیا کرے تا کہ باقی لوگ بھی کیمپ میں اپنے گھروں کو لوٹ سکیں''۔

بین کی مون عالمی بنک کے گروپ صدر اور اسلامی ترقیاتی بنک کے سربراہ کے ہمراہ لبنان کے دو روزہ دورے پر ہیں۔وہ لبنان کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں شامی مہاجرین کے لیے قائم کیے گئے ایک سماجی مرکز اور وادی بقاع میں مہاجرین کی غیر رسمی آباد کاری کا جائزہ لینے کے لیے بھی جانے والے تھے۔

مشرق وسطیٰ کے ننھے ملک لبنان کی سرحدیں اسرائیل اور شام سے ملتی ہیں۔اس کی اپنی آبادی پینتالیس لاکھ کے لگ بھگ نفوس پر مشتمل ہے لیکن وہاں قریباً پانچ لاکھ فلسطینی مہاجرین عشروں سے رہ رہے ہیں اور شام میں خانہ جنگی چھڑنے کے بعد سے دس لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ شامی مہاجرین عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔ان کی وجہ سے لبنانی معیشت پر بھاری بوجھ پڑا ہے اور وہ تنہا اس بوجھ کو سہارنے کے قابل نہیں ہے۔