.

تدمر میں داعش کے خلاف لڑائی میں روسی فوجی افسر ہلاک

شامی فوج داعش کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد تاریخی شہر میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے زیر قبضہ تاریخی شہر تدمر میں داخل ہوگئی ہے جبکہ روسی خبررساں ایجنسیوں نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تدمر کے نزدیک لڑائی کے دوران ایک روسی افسر ہلاک ہوگیا ہے۔

روس کی سرکاری خبررساں ایجنسیوں تاس اور ریا نووستی نے شام میں روسی فوجی اڈے حمیمیم موجود ایک فوجی عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ تدمر کے نواح میں ہلاک ہونے والا فوجی افسر روسی طیاروں کی داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے رہ نمائی کررہا تھا۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن اخباریہ نے اطلاع دی ہے کہ فوجی تدمر کے وسط میں پہنچ گئے ہیں۔چینل نے اس تاریخی شہر کے بیرونی حصے میں فلمائی گئی ایک فوٹیج بھی نشر کی ہے۔

درایں اثناء روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ روسی طیاروں نے اتوار سے بدھ تک تدمر میں داعش کے 146 اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ان میں 320 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔روسی طیاروں نے بمباری کر کے پانچ ٹینکوں ،توپ خانے کے چھے سسٹمز ،اسلحے کے دو ڈپو اور پندرہ گاڑیوں کو تباہ کردیا ہے۔

تدمر پر سرکاری فوج کے کنٹرول کے بعد شام کے محکمہ نوادرات اور عجائب گھر کے سربراہ مامون عبدالکریم نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ داعش نے شہر کے تاریخی ورثے کو اس قدر تباہ وبربار نہیں کیا ہوگا جتنا کہ پہلے سوچا جارہا تھا۔

یونیسکو نے شام کے اس تاریخی شہر کو عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔داعش نے 21 مئی 2015ء کو شامی فوج کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد وسطی صوبے حمص میں واقع اس تاریخی شہر پر قبضہ کیا تھا۔اس جنگجو گروپ نے اس کے چند روز کے بعد ایک فوٹیج جاری کی تھی جس میں تدمر میں تاریخی عمارات کے آثار جوں کے توں برقرار دکھائی دے رہے تھے۔

اس جنگجو گروپ نے تب کہا تھا کہ وہ صرف مجسموں کو مسمار کرے گا کیونکہ یہ اس کے نزدیک بت پرستی کے زمرے میں آتے ہیں۔اس کے بعد داعش نے دو ہزار سال قدیم بعل کے مندر اور دوسری تاریخی عمارات کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔

داعش نے تدمر میں واقع حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ (محمد بن حنفیہ) اور ایک صوفی بزرگ نذر ابو بہاءالدین کے مزارات کو بھی دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔حضرت محمد بن علی کا مزار تدمر سے چارکلومیٹر دور پہاڑی علاقے میں واقع تھا۔نذر ابو بہاءالدین کا مزار تدمر کے تاریخی آثار سے قریباً پانچ سو گز کے فاصلے پر واقع تھا۔یہ مزار پانچ صدی قدیم تھا۔داعش کے قبضے سے قبل اس شہر میں پہلی صدی عیسوی کے گرجا گھر اور رومی تھیٹر کے آثار بھی موجود تھے۔