.

''مصر میں این جی اوز کے ساتھ کوئی سختی نہیں برتی جارہی''

100 غیرملکی تنظیموں سمیت ہزاروں گروپوں کو کام کرنے کی آزادی ہے: وزارتِ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں قریباً ایک سو غیرملکی گروپوں سمیت ہزاروں غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت ہے۔اس نے انسانی حقوق کے علمبردار بعض کارکنان کے خلاف غیرملکی رقوم وصول کرنے کے الزامات کی تحقیقات پر تنقید کو مسترد کردیا ہے۔

مصری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ملک میں اس وقت سینتالیس ہزار سے زیادہ این جی اوز کام کررہی ہیں۔ان میں قریباً ایک سو غیرملکی تنظیمیں ہیں اور وہ آزادانہ مختلف شعبوں میں کام کررہی ہیں''۔

ان میں سے تیرہ غیر سرکاری تنظیموں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران مصری حکام نے انسانی حقوق کے متعدد کارکنان سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ان پر سفری پابندیاں عاید کردی ہیں اور ان کے اثاثے بھی منجمد کرنے کی کوشش کی ہے۔

مصری حکام انسانی حقوق کے دو معروف علمبرداروں جمال عید اور حسام بہجت کے خلاف غیرملکی فنڈز قبول کرنے کے الزام میں تحقیقات کررہے ہیں اور اس وجہ سے انھیں تنقید کا سامنا ہے۔

قاہرہ کی ایک عدالت میں اس وقت حکومت کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست زیر سماعت ہے اور اس کو عدالت نے جمعرات کے روز 20 اپریل تک ملتوی کردیا ہے۔وہ اس امر کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ان کے اثاثے منجمد کیے جاسکتے ہیں اور کیا ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کی جاسکتی ہے یا نہیں۔

مصری قانون کے تحت اگر شہری حقوق کے گروپ رجسٹریشن کے بغیر کام کریں یا حکومت کی اجازت کے بغیر غیرملکی فنڈز قبول کریں تو انھیں عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔مصر میں عمر قید کی مدت پچیس سال ہے۔

وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران حکومت نے شہری تنظیموں کے لیے غیر ممالک سے ملنے والے سات فی صد فنڈز کو مسترد کردیا تھا جبکہ دوسرے گروپوں کو قریباً دس کروڑ ڈالرز قانونی طریقے سے ملے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تناظر میں یہ دعویٰ ناممکن العمل نظر آتاہے کہ مصر میں شہری تنظیموں کے ساتھ سختی برتی جارہی ہے اور ان کے کام میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ مصر میں جولائی 2013ء میں پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کی برطرفی کے بعد سے ان کے حامیوں سمیت ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے حکومت مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا ہے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے کارکنان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔اب ان کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر زید رعد الحسین نے اسی ہفتے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''این جی اوز نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دستاویز کاری اور متاثرین کی مدد کے لیے گراں قدر کام کیا ہے۔اگر ان کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں تو ان کی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم ہو کر رہ جائیں گے۔اس طرح متاثرین کی وکالت کرنے والی آوازوں کو بھی دبا دیا جائے گا''۔