.

عراق : شام کے ساتھ داعش کی مرکزی سپلائی لائن منقطع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج نے جمعہ کے روز بتایا کہ یزیدی اور قبائلی جنگجوؤں نے نینویٰ صوبے کے علاقے سنجار میں شامی سرحد کے نزدیک واقع علاقے پر کنٹرول حاصل کرکے داعش تنظیم کی مرکزی سپلائی لائن کو منقطع کردیا ہے۔

فوج کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگجوؤں نے شامی سرحد کے نزدیک دو علاقوں ام الدیبان اور ام جریس کو قبضے میں لے لیا ہے۔

ادھر نینویٰ صوبے سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ عبدالرحیم الشمری نے شام کی سرحد کے ساتھ واقع دونوں علاقوں کو آزاد کرانے اور وہاں عراقی پرچم لہرانے کی تصدیق کی ہے۔

مذکورہ دونوں علاقے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ہیں جن کے ذریعے شام کے شہر الرقہ سے عراقی شہر موصل تک داعش کے ارکان کو امداد پہنچائی جاتی تھی۔

مشترکہ افواج کی جانب سے جاری ایک بیان میں دونوں علاقوں کی آزادی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس دوران " داعش کی دہشت گرد ٹولیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس میں دھماکا خیز مواد سے بھری متعدد گاڑیوں کی تباہی اور کئی دہشت گردوں کی ہلاکت شامل ہیں۔

یاد رہے کہ کرد بشمرگہ فورسز کے جنگجوؤں اور یزیدیوں کے یونٹوں پر مشتمل فورسز نے گزشتہ نومبر میں یزیدی قصبے سنجار پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا جہاں اس سے قبل داعش تنظیم نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف وحشیانہ کارروائیوں کا ارتکاب کیا تھا۔

گزشتہ ماہ شامی کردوں کے زیرقیادت فورس نے عراقی سرحد کے اس پار اسٹریٹجک اہمیت کے حامل شامی شہر الشدادی پر قبضہ کرلیا تھا۔