.

یمن : تعز، صنعاء اور الجوف میں تازہ جھڑپیں۔۔ باغیوں کا نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صوبوں تعز، صنعاء اور الجوف میں متعدد محاذوں پر ایک مرتبہ پھر سرکاری افواج اور عوامی مزاحمت کاروں کی حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

تعز شہر کے اطراف میں شمال اور مغرب کی جانب محاذوں پر جھڑپیں، گولہ باری اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔ اس دوران مسلح ملیشیاؤں نے شہر کے مشرق میں القصر کے علاقے کے نزدیک ثعبات، الدعوہ اور الکمب کے محلوں کو جب کہ شہر کے شمال میں الزنوج اور اس سے متصل علاقوں کو بمباری کا نشانہ بنایا۔

تعز کے جنوب میں الاقروض کے محاذ پر عوامی مزاحمت کاروں نے ہفتے کی صبح ان ملیشیاؤں کا حملہ پسپا کردیا جو گزشتہ چند روز میں اپنے ہاتھ سے نکل جانے والے ٹھکانوں کو واپس لینے کی کوشش کررہی تھیں۔

مغربی محاذ پر بھی عوامی مزاحمت کاروں نے مرکزی جیل کے مغربی علاقے میں ملیشیاؤں کی جانب سے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ اس دوران ملیشیاؤں کے متعدد ارکان مارے گئے۔

ادھر صنعاء کے علاقے 70 اسکوائر میں ایک سرنگ سے معزول صدر علی صالح عبداللہ نے نمودار ہو کر اپنے حامیوں کے مجمع سے خطاب کیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پرتشدد کارروائیاں جاری رکھنے اور یمن میں امن کی بحال کے لیے بین الاقوامی قانونی قراردادوں کی تعمیل نہ کرنے پر زور دیا۔

صنعاء میں زمینی ذرائع نے بتایا ہے کہ سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے شہر کے شمال مشرق میں واقع نہم کے محاذ پر الخول کے علاقے کے نزدیک پہاڑی سلسلے میں ملیشیاؤں کے ایک حملے کو پسپا کردیا۔

ذرائع نے واضح کیا کہ ہفتے کی صبح کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں ملیشیاؤں کے 20 جنگجو ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

دوسری جانب الجوف صوبے کی المتون گورنری میں ملیشیاؤں کی جانب سے دراندازی کی کئی کارروائیوں کے بعد پھر سے جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اس دوران اتحادی طیاروں نے صوبے کے مغرب میں واقع الغیل گورنری میں ملیشیاؤں کے جتھوں پر 3 حملے کیے۔