.

بد دیانتی اور نسل پرستی داعش کو کھوکھلا کرنے لگے!

اختلافات سے داعش کا تنظیمی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق کے وسیع علاقے پر قابض شدت پسند گروپ دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے خلاف نہ صرف پوری دنیا متحد ہو رہی ہے بلکہ خود تنظیم کے اندر پائے جانے والے اختلافات بھی اسے اپنے بدترین انجام کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق داعش کی صفوں میں بد دیانتی اور نسل پرستی کے عنصر زیادہ گہرے ہوتے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں داعش اندر ہی اندر سے کھوکھلا ہو رہی ہے۔

اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ داعش کی صفوں میں بھی اہم عہدوں کے حصول کے لیے کشمکش جاری ہے۔ یہ کھینچا تانی بسا اوقات ایک دوسرے کے قتل تک بھی جا پہنچتی ہے۔ شام اور عراق کے مقامی داعشی جنگجوؤں اور بیرون ملک سے آنے والے جنگجوؤں میں پائی جانے والی رسا کشی سے تنظیم کی صف اول کی قیادت میں سخت بے چینی کی کیفیت طاری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم میں پائے جانے والے اختلافات کے نتیجے میں قیادت کو دوسرے اور تیسرے درجے کی صف میں شامل جنگجوؤں کو ان مقامات پر متعین کرنا پڑا ہے جہاں انہیں دوسرے انتہا پسند گروپوں کے ساتھ یورپ اور امریکا کے حملوں کا بھی سامنا ہے۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کو جہاں عالمی سطح پر ایک بڑی جنگ کا سامنا ہے وہیں اس سے کہیں زیادہ خطرناک صورت حال اس کے اندر پائی جا رہی ہے۔ مالیاتی بحران سے دوچار داعش اپنے جنگجوؤں کی معاشی ضروریات پوری کرنے میں سنگین مشکلات کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ تنظیم کے بہت سے ذرائع آمدن ختم ہو چکے ہیں۔ تنظیم کے جنگجوؤں میں پائی جانے والی بد عہدی، ایک دوسرے پر الزام تراشی، انتظامی معاملات میں لاپرواہی اور مقامی اور غیرملکی جنگجوؤں کےدرمیان نسل پرستانہ بنیادوں پر ہونے والے جھگڑوں نے تنظیم کے وجود کو سنگین خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔

داعش سے مںحرف ہونے والے بعض جنگجوؤں نے کا کہنا ہے کہ مقامی داعشی قیادت کا خیال ہے کہ باہر سے آنے والے ہم لوگ قبایلی اور مقامی روایات کی پاسداری نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ مقامی داعش قایدین غیرملکیوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کرتے ہیں۔

اختلافات کا ایک سبب تنظیم میں پائی جانے والی مخبری کی افواہیں بھی ہوتی ہیں، کیونکہ مقامی جنگجو باہر سے آنے والوں کو نہ صرف شک وشبے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ معمولی اختلافات کی بناء پرانہیں دشمن کا ایجنٹ اور جاسوس قرار دے کران کے خلاف انتقامی کارروائی شروع کر دیتے ہیں۔