.

اقوام متحدہ :فلسطینی کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت

اسرائیلی فوجی کے خلاف زخمی فلسطینی کو گولی مار کر قتل کرنے کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک ماہر نے گذشتہ ہفتے ایک اسرائیلی فوجی کے ہاتھوں ایک زخمی فلسطینی کی ہلاکت کی مذمت کی ہے اور واقعے کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے۔

اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم بی تسلیم نے اس واقعے کی ویڈیو جاری کی ہے۔اس میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ایک اسرائیلی فوجی گذشتہ جمعرات کو زمین پر زخمی پڑے ایک فلسطینی کو سر میں گولی مار رہا ہے۔اس فلسطینی نے مبینہ طور پر ایک اور اسرائیلی فوجی کو چاقو کا وار کرکے زخمی کردیا تھا۔

اسرائیلی حکام نے اس فوجی کو گرفتار کر لیا ہے لیکن اس پر ابھی تک فرد جرم عاید نہیں کی گئی ہے۔اسرائیلی فوج نے ابتدا میں اس کے بارے میں کہا تھا کہ اس سے قتل کی تفتیش کی جارہی ہے لیکن منگل کے روز پراسیکیوٹرز نے ایک عدالت کو بتایا ہے کہ فوجی کے خلاف قتل کے ممکنہ الزامات پر فرد جرم عاید کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

اس واقعے کے بعد سے اسرائیل میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا فلسطینی حملہ آوروں کے خلاف بے مہابا طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے ماورائے عدالت قتل کرسٹوفر ہینز نے کہا ہے کہ ''اس کی تصاویر واضح طور پر ماورائے عدالت قتل کے کیس کی علامت ہیں۔کسی ایسے شخص پر گولی چلانا جس سے کوئی خطرہ نہ ہو، قتل کے زمرے میں آتا ہے''۔

اس مقتول فلسطینی کا آج جمعرات کو ایک فلسطینی ڈاکٹر کی موجودگی میں پوسٹ مارٹم کیا جانے والا تھا۔پھر اس کی رپورٹ کی روشنی میں اسرائیلی فوجی کے خلاف فرد الزام عاید کی جائے۔اسرائیلی حکومت نے اس فوجی کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ نے بدھ کو فوجیوں کے نام ایک خط لکھا تھا کہ ''آرمی ایسے کسی فوجی کی حمایت کرے گی جو جنگ کی گرمی میں کسی غلطی کا مرتکب ہوگا لیکن ان فوجیوں یا کمانڈروں کا احتساب کیا جائے گا جو فوجی ضابطے کی پاسداری نہیں کریں گے''۔

مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یکم اکتوبر سے تشدد کے اس طرح کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔اسرائیلی فوجی فلسطینیوں کو ہمیشہ براہ راست گولیاں مارنے کے بعد یہ مو؛قف اختیار کرتے ہیں کہ انھوں نے کسی اہلکار کو چاقو گھونپا تھا یا اسرائیلی راہ گیروں پر اپنی گاڑی چڑھانے کی کوشش کی تھی۔

اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد دو سو ہوچکی ہے۔ان میں سے بیشتر کے بارے میں اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے۔ان کے مبینہ چاقو حملوں ،فائرنگ یا اپنی گاڑیوں کو راہ گیروں پر چڑھانے کے واقعات میں 28 اسرائیلی ، دو امریکی ،ایک سوڈانی اور ایک ایریٹرین شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔