.

روس مذاکرات کے سبوتاژ کی کوشش کر رہا ہے: شامی اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی خبررساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق شامی اپوزیشن کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کا مستقبل جنیوا بات چیت کا مرکزی موضوع ہونا چاہیے۔

مذاکرات کی سپریم کمیٹی کے رکن ریاض نعسان آغا کے نزدیک ماسکو حکومت کی جانب سے بشار کے رخصت ہونے کا معاملہ زیربحث نہ لانے پر زور دینے کا مقصد مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ "اگر ہم بشار الاسد کے انجام پر بات نہیں کرتے تو پھر کیا چیز زیربحث ہو گی؟"

ادھر روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف کا کہنا ہے کہ امریکا نے روس کے اس موقف کو سمجھ لیا ہے کہ ابھی بشار کے مستقبل پر بات نہیں کی جانی چاہیے۔

تاہم شامی اپوزیشن کی سپریم مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان منذر ماخوس نے حالیہ وقت میں بشار کے موضوع پر بات چیت نہ کرنے کے حوالے سے روس اور امریکا کے درمیان کسی بھی موافقت کی یکسر تردید کی ہے۔