.

شام میں جائیدادوں کی خرید پر ایرانی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ تہران حکومت سرمایہ کاروں کے شام میں جائیداد خریدنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں دارالحکومت دمشق کے مختلف علاقوں میں املاک کی خرید پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

"غیر ملکی نشریاتی ادارے " کی فارسی سروس نے اپنی ایک رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران حکومت نے ایرانی ریاست پر کنٹرول رکھنے والے قدامت پرست ٹولے کے قریب سمجھے جانے والے سرمایہ کاروں کے علاوہ تعمیراتی کاری گروں کو بھی شام بھیجا ہے۔

ریڈیو نے ایرانی ماہر اور مبصر فريبرز صارمی کے حوالے سے بتایا ہے کہ "ایرانیوں کی جانب سے شام میں جائیدادوں کی ملکیت کے حصول کی پالیسی شام اور مشرق وسطی کے دیگر علاقوں میں تہران کا کنٹرول پھیلانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے"۔

یاد رہے کہ شام میں ایرانیوں کی جانب سے جائداد کی خرید کی خبریں کوئی نیا امر نہیں ہے۔ سال 2012ء سے ایرانی کاروباری شخصیات شام کے مختلف شہروں میں فروخت کے لیے پیش کی جانے والی جائیدادوں کی ایک بڑی تعداد کو خریدنے میں مصروف ہیں۔ ان علاقوں میں سرفہرست دارالحکومت دمشق کا وسطی حصہ اور حمص ہیں۔ ان میں شام سے ہجرت کرجانے والوں کی املاک خاص طور پر شامل ہیں۔

متعدد میڈیا رپورٹوں اور سرگرم شامی کارکنوں کے بیانات میں تہران کی جانب سے شامی اراضی بالخصوص دمشق میں زمینوں کی خریداری کے رجحان پر روشنی ڈالی گئی۔

رپورٹوں میں شہر کے رہنے والوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانیوں نے دمشق کے وسط میں خطیر رقوم کے عوض گھروں کو خریدا ہے۔

شامی ذرائع کے مطابق دمشق، حمص اور ملک کے دیگر علاقوں میں پراپرٹی مارکیٹ ایرانیوں کے لیے انتہائی پرکشش بن چکی ہے۔ بالخصوص ایرانی پاسداران انقلاب کی بڑی تعداد کی موجودگی میں جو شامی اراضی میں موجودہ انارکی سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

رپورٹوں میں باور کرایا گیا ہے کہ ایرانی حکومت نواز کاروباری شخصیات کی جانب سے خریداری کی سرگرمیاں پہلے تو دمشق کے مشرقی علاقوں بالخصوص شہر کے پرانے حصے تک محدود تھیں تاہم کچھ عرصہ قبل یہ دارالحکومت کے دیگر علاقوں تک پھیل گئیں۔ ان میں بہت سی ایسی اراضی بھی شامل ہیں جن کی ملکیت ریاست کے پاس ہے، بعد ازاں قانون کو جھانسا دے کر ان کو ایرانیوں کی ملکیت میں دینا آسان ہوگا۔

ایرانی ویب سائٹ "بيک نٹ" نے انکشاف کیا کہ تہران حکومت کمپنیوں، تاجروں، ٹھیکے داروں اور شہریوں کی شام کے دارالحکومت دمشق کے پوش علاقوں میں گھروں، جائدادوں اور ہوٹلوں کی خریداری پر حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کے گرد زیادہ تر اراضی اور تعمیرات کو تہران حکومت کے نزدیک سمجھے جانے والے ایرنیوں نے بڑی رقوم کے عوض خرید لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان علاقوں میں جائداد کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔

ادھر شامی حلقوں نے ایرانی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ "شام میں آبادی کے تناسب میں وسیع تبدیلی کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ طویل مدت تک اپنے مفادات کی ضمانت حاصل کر سکے"۔