.

کرپشن پر سزایافتہ اسرائیلی وزیرداخلہ سے دوبارہ تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکام وزیر داخلہ اریح دیری کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات کررہے ہیں۔الٹرا آرتھوڈکس یہود کی جماعت شاس سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ قبل ازیں بھی کرپشن کے جرم میں جیل کاٹ چکے ہیں۔

دیری نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ان سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے نام کی اشاعت پر عاید پابندی ختم کرنے کی درخواست کی ہے اور اس صورت میں وہ تمام سوالوں کے جواب دینے کو تیار ہیں۔

اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل 2 نے سب سے پہلے منگل کو ایک سینیر سیاست دان کے خلاف تحقیقات کی خبر نشر کی تھی لیکن اس سیاست دان کا نام نہیں لیا تھا۔

ایک اور غیرشناختہ سینیر سیاست دان کے خلاف بھی بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہے مگر ان تحقیقات کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی تھی اور نہ یہ بتایا گیا تھا کہ اس مبینہ غلط کاری کا کب ارتکاب کیا گیا تھا۔

شاس پارٹی کے سربراہ دیری کو جنوری میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت میں وزیر داخلہ بنایا گیا تھا۔ان کے پیش رو سلوان شالوم جنسی حراسیت کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔شاس کی حمایت کے سہارے ہی نیتن یاہو کی حکومت قائم ہے اور اس کو پارلیمان میں صرف ایک نشست کی برتری حاصل ہے۔

مسٹر اریح دیری اس سے قبل 1988ء سے 1993ء تک اسرائیل کے وزیر داخلہ رہے تھے۔انھیں سنہ 2000ء میں ایک لاکھ پچپن ہزار ڈالرز رشوت لینے کے جرم میں قصور وار قرار دے کر تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔تاہم جیل میں ان کے اچھے رویے کے پیش نظر ان کی سزا میں ایک تہائی کمی کردی گئی تھی۔

بعض حلقوں نے جنوری میں انھیں وزیر داخلہ مقرر کرنے کے فیصلے پر تنقید کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ یہ وزارت ایسے کسی شخص کو نہیں سونپی جانی چاہیے جو کرپشن کے جرم میں جیل کاٹ چکا ہے جبکہ ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ وہ سوسائٹی کو اپنا قرض چکا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی وزارت داخلہ مقامی حکومت سے متعلق امور اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے اقدامات کی ذمے دار ہے جبکہ امن وامان کی ذمے دار پولیس ایک اور وزارت کے تحت آتی ہے۔