.

​العبادی بے فائدہ وعدے نہ کریں : مقتدی الصدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی پارلیمنٹ میں جمعرات کے روز خصوصی اجلاس کا وقت قریب آرہا ہے۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے کہ اجلاس میں وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے نئی وزارتی تشکیل پیش کی جائے گی تاکہ اس پر رائے شماری ہوسکے۔ تاہم اس دوران ملک میں بیان بازی بھی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ بالخصوص العبادی کے خطاب کے بعد جہاں الصدی موومنٹ کے سربراہ مقتدی الصدر کی جانب سے فوری جوابی بیان آیا جو حالیہ دھرنوں میں اہم ترین کردار ادا کررہے ہیں۔

وزیراعظم العبادی کی جانب سے اصلاحات اور وزارتی ترمیم سے متعلق خطاب کے کچھ ہی دیر بعد مقتدی الصدر نے ایک بیان جاری کردیا جس میں حیدر العبادی پر زور دیا کہ وہ بے فائدہ خطابوں اور وعدوں کی بھرمار سے گریز کریں، کیوں کہ ان کے خطاب عوام کی توقعات سے دور اور عراقیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دینے والے ہوتے ہیں۔

مقتدی الصدر نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانونی دائرہ کار میں پرامن احتجاجوں پر اپنا غصہ نہ نکالیں بلکہ اپنی توپوں کا رخ بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کی جانب پھیر دیں، اتنا خوف اور ہچکچاہٹ کافی ہے۔

مقتدی الصدر نے حیدر العبادی سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ ٹکنوکریٹس پر مشتمل وزارتی تشکیل پیش کرنے کے حوالے سے جمعرات تک دی گئی مہلت کی پاسداری کریں۔ اس لیے کہ عدم پاسداری کی صورت میں معاملہ صرف پارلیمنٹ میں ان سے پوچھ گچھ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ ان پر عدم اعتماد اور مطالبات میں اضافے کی شکل میں سامنے آئے گا۔

اس سے قبل عراقی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اصلاحات کو یقینی بنانے کے لیے ٹریفک کی آمدورفت اور شہریوں کی آزادی کو متاثر کرنے کو یکسر مسترد کردیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دھرنوں کے بعد بغداد اور دیگر صوبوں کی سیکورٹی اضافی کوششوں کا متقاضی ہوگی۔ العبادی نے وزارتی تبدیلی اور سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کا بھی وعدہ کیا۔

یاد رہے کہ الصدری موومنٹ سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی بلاک نے العبادی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اصلاح کی راہ میں رکاوٹ بننے والے ہر سیاسی بلاک اور اس کی قیادت کے ناموں کا اعلان کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ وزارتی تشکیل میں حصہ نہیں چاہتا اور کوٹے کو مسترد کرتے ہوئے العبادی کو اپنی حکومتی تشکیل میں مکمل آزادی فراہم کرنا چاہتا ہے۔