.

سعودی دانش وروں کی نظر میں کون بہتر : ہیلری یا ٹرمپ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی دانش وروں اور ماہرین کے ایک گروپ نے باور کرایا ہے کہ امریکی صدارت کے لیے ممکنہ ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن ریپبلکن عربوں کے لیے زیادہ بہتر آپشن ہوسکتی ہیں، بالمقابل ریپبلکن ممکنہ امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے جو نسل پرستی اور تنازع کا مجسم نمونہ ہیں۔ تاہم گروپ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ صدر کو تن تنہا امریکی خارجہ پالیسی بدلنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔

سعودی عرب کے سیاسی تجزیہ کار اور لکھاری ترکی الحمد کے نزدیک امریکی صدارت کے دونوں ممکنہ امیدوار کلنٹن اور ٹرمپ "اسرائيل" کو سپورٹ کرتے ہیں اور ایسے صدارتی ادارے سے تعلق رکھتے ہیں جس کی اپنی راسخ اقدار ہیں اور امریکا کی قومی مصلحت سے متعلق ان اقدار سے تجاوز نہیں کیا جاسکتا۔ الحمد کا کہنا تھا کہ : "ہم یہ نہ بھولیں کہ امریکی صدر کے پاس مطلق اختیار نہیں ہوتا، وہ خود دیگر سیاسی اداروں کے ہاتھوں پابند ہوتا ہے اور آئین سب پر حکمراں رہتا ہے"۔

تاہم روزنامہ عکاظ کے چیف ایڈیٹر جميل الذيابی کی رائے مختلف ہے، ان کے خیال میں دونوں شخصیات میں ہر ایک کی اپنی "خرابی" ہے۔ اگرچہ وہ کلنٹن کو دو بُروں میں زیادہ بہتر گردانتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ ڈیموکریٹک امیدوار متانت اور سکون کے ساتھ عمل کی کوشش کرتی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ بطور "صدر" منتخب ہونے والی پہلی امریکی خاتون بن جائیں۔ دوسری جانب ان کے مقابل ریپبلکن امیدوار ٹرمپ سب وشتم، طنز اور نسل پرستی کے ساتھ بات کرنے والی شخصیت ہیں۔ الذیابی نے کہا کہ : "عرب اور مسلمان یہ نہیں چاہتے کہ صدارت کی کرستی تک ایک شخصیت پہنچے جو ان کے المیوں اور تکالیف میں اور اضافہ کردے"۔

امریکی صدر ملک نہیں چلاتا

شاہ سعود یونی ورسٹی میں سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر سليمان جازع الشمری نے جمیل الذیابی کی بات پر موافقت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ہوں یا کلنٹن "معاملہ برابر" ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی صدر ملکی پالیسی کا خاکہ تیار نہیں کرتا ہے۔

الشمری نے مزید کہا کہ : "اس ملک پر تین اتھارٹیز حکمرانی کرتی ہیں اور اسی طرح خارجہ پالیسی کی ہدایات میں بھی۔ ہم نے ہیلری کا ان کے شوہر کی حکمرانی کے ساتھ تجربہ کیا اور اسی طرح جب وہ وزیر خارجہ تھیں۔ امریکا کی خارجہ پالیسی میں کوئی فرق نہیں نظر آیا"۔

ادھر سیاسی تجزیہ کار اور روزنامہ "الجزيرہ" میں لکھنے والے احمد الفراج نے کہا کہ ہیلری کلنٹن کا امیدوار کے طور پر جیت جانا "تقریبا یقینی" ہے۔ تاہم ہم یہ بات پورے وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ ٹرمپ ہی ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔

الفراج نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ :" امریکا دیرینہ طور پر اداروں کا ملک ہے جہاں صدر فیصلہ سازی کا صرف ایک حصہ ہوتا ہے۔ وہ فیصلہ کرنے کی مشین میں صرف ایک ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ لہذا ٹرمپ کی جانب سے حالیہ مبالغہ آرائیاں صرف انتخابی پروپیگنڈہ ہیں"۔

​الفراج کے خیال میں دونوں امیدواروں کی اپنی خصوصیات ہیں۔ "كلنٹن" ایک پیشہ ور سیاست دان ہیں، وہ ہمارے خطے کو اچھی طرح سے جانتی ہیں اور بہتر ثابت ہوسکتی ہیں۔ جہاں تک "ٹرمپ" کا تعلق ہے تو وہ پروان چڑھتی دہشت گردی کا سامنا کرنے اور اس پر روک لگانے کے حوالے سے بہتر ہوسکتے ہیں۔ وہ بھی اس صورت میں جب ہم فرض کریں کہ دہشت گردی کا حل عسکری مقابلہ ہے۔

الفراج نے مزید کہا کہ : "امریکی صدر قطع نظر اپنے بیانات اور پارٹی کے، موجودہ سیاسی نظام کے تحت اداروں کی موجودگی میں اکیلے فیصلہ نہیں کرسکتا"۔

ہمارا آپشن كلنٹن

دوسری جانب امام محمد بن سعود یونی ورسٹی میں کلیہ ذرائع ابلاغ کے ڈین ڈاکٹر عبداللہ الحمود کے نزدیک عربوں اور سعودیوں کے لیے زیادہ بہتر آپشن کلنٹن ہیں۔ اس کے جواز کی وجوہات کے طور پر انہوں نے کلنٹن کی واضح پالیسی اور مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سابقہ تجربات کا ذکر کیا۔

الحمود کا کہنا تھا کہ : " ٹرمپ بیانات کے ذریعے ہنگامہ کھڑا کررہے ہیں۔ بہرحال ہمیں ان کے بیانات کی حقیقت جاننے کے لیے دو سالوں کی ضرورت ہے۔"کیا یہ بیانات حقیقی ہیں یا صرف میڈیا کی حد تک؟"

سیاسی عمرانیات کے پروفیسر ڈاکٹر خالد الدخیل نے عبداللہ الحمود کی رائے سے موافقت کا اظہار کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ کلنٹن کئی وجوہات کی بنا پر بہتر آپشن ہیں۔ ان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے گزشتہ تجربے اور کلنٹن کی زیادہ متوازن پالیسی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اہم بات یہ کہ کلنٹن نسل پرست نہیں اور مشرق وسطی کے مسائل کو زیادہ بہتر سمجھنے والی ہیں۔ الدخیل کے نزدیک ٹرمپ ایک غیرمتوازن شخصیت ہیں اور ان کے بیانات نسل پرستی، عداوت اور نخوت سے بھرے ہوتے ہیں۔

الدخیل کا کہنا ہے کہ : "میں سمجھتا ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی صدر ہونا جب کہ وہ دنیا کو کنٹرول کرنےوالی طاقت ور ریاست ہے، انتہائی منفی اور خطرناک امر ہے"۔