.

غداروں کے نزدیک مستقبل میزائلوں کا نہیں مذاکرات کا ہے : خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جانب سے میزائل تجربوں نے مغربی دنیا کے چار دارالحکومتوں واشنگٹن، لندن، پیرس اور برلن میں غصے کی آگ بھڑکا دی ہے۔ اس غصے کا اظہار سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط سے بھی ہوتا ہے جس میں ان ممالک نے ایرانی میزائل تجربوں کے جواب میں بھرپور موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم دوسری جانب ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای نے مستقبل کو میزائل تجربات کے بجائے مذاکرات سے جوڑنے والے کو "غدار" قرار دیا ہے۔

علی خامنہ نے بدھ کے روز شیعی تقویم کے لحاظ سے حضرت فاطمہ الزہراء(رضی اللہ عنہا) کے یوم ولادت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " کل کی دنیا مذاکرات کے لیے ہوگی ناکہ میزائلوں کی دنیا۔ یا تو یہ لوگ مدہوشی کے عالم میں بات کررہے ہیں اور اگر یہ ہوش و حواس میں گفتگو کررہے ہیں تو پھر یہ یقینا غدار ہیں"۔

اقوام متحدہ نے گزشہ سال جولائی میں بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے پر عمل درامد کے تحت ایران کو بیلسٹک میزائلوں کے تجربات روک دینے کے لیے کہا تھا۔ ایران نے اس نوعیت کے تجربات جاری رکھے جن میں آخری تجربہ رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو کیا گیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ خامنہ ای کا یہ بیان اس ٹوئیٹ کا بالواسطہ جواب ہے جو ایرانی تشخیص ِ نظام کی کونسل کے معتدل مزاج سربراہ ہاشمی رفسنجانی نے گزشتہ ہفتے کیا تھا۔ اس میں رفسنجانی کا کہنا تھا کہ "مستقبل کی دنیا مذاکرات کی دنیا ہوگی ناکہ میزائلوں کی"۔

اس امر سے رفسنجانی اور خامنہ ای کے درمیان خارجہ پالیسی کے حوالے سے اختلافات کی گہرائی کا انکشاف ہوگیا۔ ایرانی مفادات کے تحفظ کے لیے اس پالیسی کے پیچھے چلنا ضروری ہے۔

علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں میزائل تجربات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ "اگر حکومت نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانا روک دیا اور صرف ٹکنالوجی کے حصول اور مذاکرات جاری رکھنے کی کوشش کی، پھر تو وہ کسی بھی بونے ملک کے سامنے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوجائے گی"۔

امریکی کانگریس نے کچھ عرصہ قبل بیلسٹک میزائل کے تجربات کرنے کے سبب ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے لیے قرارداد پر غور و خوض شروع کردیا ہے۔

خامنہ ای نے شام میں ایرانی ملیشیاؤں کی موجودگی کا بھی دفاع کیا اور ان افراد کی تعریف کی جو شام میں لڑائی میں شمولیت کے لیے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ خامنہ ای کے نزدیک ان لوگوں کا کام بہت اہم اور قیمتی ہے۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک کے مشترکہ خط میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تہران کی جانب سے وعدوں کی عدم پاسداری کا "مناسب طور جواب" دیا جائے۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے ساتھ غیرموافق ایران کی میزائل سرگرمیوں سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔