.

شام : الرقہ کے نزیک داعش کا کمانڈر ڈرون حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں داعش کے خود ساختہ دارالخلافہ الرقہ کے نزدیک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں اس سخت گیر گروپ کا ایک سرکردہ کمانڈر ہلاک ہوگیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ ''تیونس سے تعلق رکھنے والا داعش کا سرکردہ کمانڈر ابوالحجہ بدھ کی رات ایک ڈرون حملے میں مارا گیا ہے۔اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ ڈرون حملہ امریکا کی قیادت میں اتحاد نے کیا تھا''۔

رصدگاہ کے مطابق ابوالحجہ چوبیس گھنٹے قبل ہی داعش کے خلاف ابوبکر البغدادی کی ہدایت پر عراق سے الرقہ آئے تھے۔ان کی موت داعش کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔حالیہ ہفتوں کے دوران شام میں اس سخت گیر جنگجو گروپ کے متعدد سرکردہ کمانڈر فضائی حملوں یا جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے امریکی فورسز نے داعش کے نائب امیر عبدالرحمان مصطفیٰ القدولی کو ہلاک کردیا تھا۔مارچ کے اوائل میں داعش کے ایک اور سرکردہ کمانڈر عمر الشیشانی ایک حملے میں زخمی ہونے کے بعد توڑ گئے تھے۔شامی آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ داعش کی قیادت کا صفایا کیا جارہا ہے اور اس تنظیم میں دراندازی کے بغیر یہ ہلاکتیں ناممکن تھیں۔

خلیفہ بغدادی نے مقتول کمانڈر کو شام کے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع صوبے حلب میں جانے کی ہدایت کی تھی جہاں انھوں نے داعش کی امریکا کے حمایت یافتہ کرد جنگجو گروپ شامی جمہوری فورسز کے خلاف لڑائی میں مزاحمت کی قیادت کرنا تھی۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں گذشتہ چار پانچ روز سے شدید لڑائی جاری ہے اور اس کے نتیجے میں داعش کی وہاں سے بے دخلی ہوسکتی ہے اور وہ پھر شمالی صوبے الرقہ تک ہی محدود ہو کررہ جائیں گے۔

داعش کا دریائے فرات کے مغربی کنارے کی جانب آباد علاقوں پر بدستور قبضہ برقرار ہے۔یہ علاقہ الرقہ سے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شام کے قصبے جرابلس تک پھیلا ہوا ہے۔داعش کو ایک جانب تو شامی فوج اورکرد جنگجوؤں کے خلاف میدان جنگ میں لڑائی کا سامنا ہے اور دوسری جانب امریکا کی قیادت میں اتحاد اور روس کے لڑاکا طیارے بھی ان کے ٹھکانوں پر مسلسل بمباری کررہے ہیں جس کی وجہ سے داعش کے جنگجو اپنے زیر قبضہ علاقوں سے پسپائی اختیار کررہے ہیں۔

شام میں اس وقت امریکا اور روس کے درمیان سمجھوتے کے نتیجےمیں جنگ بندی جاری ہے لیکن داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔اس لیے روس اور امریکا کی قیادت میں اتحاد نے ان دونوں گروپوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔