.

خامنہ ای غضب ناک.. رفسنجانی کے ٹوئیٹ میں ترمیم !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی خبررساں ایجنسیوں نے بتایا ہے کہ ایرانی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے اپنے ملک کے میزائل نظام سے متعلق اس ٹوئیٹ میں ترمیم کردی ہے جو انہوں نے کچھ عرصہ قبل اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا تھا۔ اس ٹوئیٹ میں رفسنجانی نے کہا تھا کہ "میزائلوں کا زمانہ گزرچکا"۔ اس پر ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای نے بدھ کے روز اپنے ایک خطاب میں شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "جو لوگ حوش و حواس میں یہ کہہ رہے ہیں کہ میزائلوں کا زمانہ گزرچکا، وہ یقینا غدار ہیں"۔

خامنہ ای کے قریب حلقوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ مرشد اعلیٰ کی بات میں رفسنجانی کی طرف اشارہ تھا۔ اسی طرح متشدد رجحان کے حامل گروپ کے میڈیا نے بھی ہاشمی رفسنجانی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے ہوئے ان پر "غداری اور حالت جمود" کا الزام عائد کیا تھا۔

ان نکتہ چینیوں کے جاری رہنے کے بعد رفسنجانی نے اپنے ٹوئیٹ میں ترمیم کرنے کے بعد لکھا کہ "یقینا کل کی دنیا مکالمے کی دنیا ہے نہ کہ میزائلوں کی دنیا"۔ اس سے قبل رفسنجانی کے قریب شمار کی جانے والی ویب سائٹ "انصاف نيوز" نے ایک وضاحت میں کہا تھا کہ تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ کا اکاؤنٹ ان کی سرکاری ویب سائٹ کے ڈائریکٹر چلا رہے ہیں، لہذا "عبارت نقل کرنے میں غلطی" ہوگئی۔

رفسجانی کے اکاؤنٹ پر بدھ کے روز ایک نئے ٹوئیٹ میں بتایا گیا کہ پہلا والا ٹوئیٹ نامکمل تھا اور مکمل متن درج ذیل ہے :

"کل کی دنیا مکالمے کی بنیاد پر ہوگی جیسا کہ اس وقت اسلامی انقلاب کا حال ہے۔ یہ بین البراعظمی میزائلوں اور ایٹم بموں کی دنیا نہیں ہوگی"۔

خامنہ ای نے رفسنجانی کے بیان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اگر یہ بات (کل کی دنیا مکالمے کی ہوگی نہ کہ میزائلوں کی) جانے بوجھے بغیر کہی گئی تو ایک علاحدہ بحث ہے، لیکن اگر جانتے بوجھتے کہی گئی ہے تو پھر غداری ہے"۔

خامنہ ای نے مزید کہا کہ "اگر ایرانی ریاست صرف ٹکنالوجی اور مذاکرات تک محدود رہتی ہے اور دفاعی قوت حاصل نہیں کرتی تو پھر وہ ایک چھوٹی سی ریاست کی دھمکیوں کے سامنے بھی پیچھے ہٹ جانے پر مجبور ہوجائے گی"۔

یہ بحث و جدل گزشتہ دور روز کے دوران برپا رہی۔ بالخصوص خامنہ ای کی جانب سے امریکا اور اس کے یورپی حلیفوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے اس مشترکہ بیان کا جواب دیئے جانے کے بعد سے جس میں ان ممالک نے تہران کے میزائل تجربے کے ذریعے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو چیلنج کرنے پر مناسب رد عمل کا مطالبہ کیا تھا۔ بیان کے مطابق ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائلوں کے تجربے گزشتہ سال طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کی مخالفت ہے۔

امریکی کانگریس نے بھی کچھ عرصہ قبل ان تجربوں کے سبب ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے سلسلے میں ایک قرارداد پر غور شروع کردیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات جاری رکھنے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ یہ معاملہ بڑی طاقتوں اور سلامتی کونسل سے متعلق ہے کہ وہ فیصلہ کریں آیا کہ نئی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں یا نہیں۔