.

عراق : داعشی جنگجو کی موت یا رہائی.. فیصلہ ووٹنگ سے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ایران نواز ایک شیعہ ملیشیا نے اپنے پاس گرفتار داعش تنظیم کے ایک جنگجو کی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ "انسٹاگرام" پر پوسٹ کر کے فالوورز سے کہا ہے کہ وہ اس قیدی کا انجام مقرر کرنے کے لیے ووٹنگ میں حصہ لیں۔ ووٹنگ کے لیے دیے جانے والے دو آپشنز میں ایک قتل ہے اور دوسرا رہائی۔ یہ اقدام بین الاقوامی قانون میں جنگی جرم کے مترادف شمار کیا جاتا ہے۔

برطانوی اخبار "گارجیئن" کے مطابق داعشی جنگجو کی تصویر انسٹاگرام پر Account@iraqiswat اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اس اکاؤنٹ کے فالوورز کی تعداد 80 ہزار سے زیادہ ہے۔

اکاؤنٹ رکھنے والے نے دعویٰ کیا ہے کہ داعشی جنگجو کو عراقی شہر موصل کے جنوب سے حراست میں لیا گیا۔ علاوہ ازیں فالوورز کو پورے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا تاکہ وہ گرفتار شدہ قیدی کے انجام کا تعین کر دیں۔

تصویر کے نیچے تبصرے میں کہا گیا ہے کہ : آپ لوگ اس کے قتل یا رہائی کے لیے ووٹ دے سکتے ہیں۔ آپ لوگوں کے پاس اب سے ایک گھنٹے کا وقت ہے۔ ہم ایک گھنٹے کے بعد آپ کو اس قیدی کے انجام سے مطلع کریں گے۔ اپنے دوستوں کو بھی آگاہ کریں، اپنا حق حاصل کریں اور داعش سے انتقام لیں۔ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ براہ مہربانی ابھی فیصلہ کریں"۔

تقریبا ایک گھنٹے کے بعد اکاؤنٹ پر ایک اور تصویر پوسٹ کی گئی جس میں کہا گیا کہ ووٹنگ میں داعشی کو موت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انسٹاگرام ویب سائٹ نے تصاویر کو حذف کردیا کیوں کہ یہ ویب سائٹ کی پالیسی کے خلاف تھیں۔ تاہم بعض صحافیوں نے حذف کیے جانے سے قبل ہی ان تصاویر کو محفوظ کرلیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس اکاؤنٹ پر ایران نواز ملیشیاؤں کی قبیح کارروائیوں کی تصاویر پوسٹ کی گئیں ہیں۔

امریکی یونی ورسٹی میری لینڈ میں مسلح جماعتوں کے امور کے برطانوی ماہر اور محقق فلپ اسمتھ کا کہنا ہے کہ "اس اکاؤنٹ پر کئی مرتبہ ملیشیاؤں کی گھناؤنی کارروائیوں سے متعلق دیگر تصاویر پوسٹ کی جاچکی ہیں۔ تاہم اس بات کو جانچنا کافی دشوار ہے کہ آیا وہ ووٹنگ اور گرفتار شدگان کے ساتھ معاملہ کرنے کے حوالے سے حقیقت بیان کرتے ہیں یا نہیں"۔

اسمتھ نے مزید کہا کہ ایران نواز جماعتیں "ملک میں سب سے زیادہ طاقت ور ہیں اور یہ عراقی حکومت کے متوازی سیکورٹی ادارے کے طور پر کام کررہی ہیں، اگرچہ وہ برائے نام حکومت کے زیر کنٹرول ہیں"۔

برطانوی ماہر کا کہنا ہے کہ "وہ جماعتیں جن پر ماضی میں ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا جاچکا ہے، وہ بغداد حکومت کے مقابلے میں ایرانی نظام سے کہیں زیادہ مربوط ہیں"۔